مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى . باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ ; فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَتَقُولُ : ابْنِي ابْنِي ، وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ ! قَالَ : فَخَفَّضَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " وَلَا ، وَاللَّهُ مَا يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ اصحاب کا گزر ہوا ، راستے میں ایک بچہ موجود تھا ، جب اس کی ماں نے ان لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا تو اسے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بچہ پیروں تلے نہ آ جائے ، وہ دوڑتی ہوئی آئی ، وہ یہ کہہ رہی تھی : میرا بچہ ، میرا بچہ ، اُس نے دوڑ کے آ کے اس بچے کو پکڑ لیا ، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالے گی راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب بندوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔