مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى . باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا ، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا ، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ ، فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ : الْحَيَوَانُ . يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيِّينَ ، لَوْ ضَافَ أَحَدُهُمْ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَعَرَّسَهُمْ وَأَطْعَمَهُمْ ، وَسَقَاهُمْ ، وَلَحَفَهُمْ " . وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ : " وَلَزَوَّجَهُمْ لَا يَنْقُصُهُ ذَلِكَ شَيْئًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کچھ لوگ جہنم میں اُس وقت تک رہیں گے جب تک اللہ کو منظور ہو گا کہ وہ اس میں رہیں ، پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا اور انہیں اُس ( جہنم ) میں سے نکال دے گا ، وہ لوگ جنت کے قریب آئیں گے اور ایک نہر میں غسل کریں گے ، جس کا نام ” حیوان “ ہو گا ( جنت میں ) اہل جنت انہیں ” جہنمی “ کا نام دیں گے ( اور ان کا عالم یہ ہو گا ، جو جہنم سے نکل کر جنت میں آئیں گے ) کہ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص چاہے تو تمام اہل دنیا کو مہمان بنا لے ، انہیں بستر فراہم کرے ، انہیں کھانا کھلائے ، انہیں پلائے ، انہیں لحاف فراہم کرنے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ) اور اُن کی شادیاں کروا دے ، تو بھی اس ( جہنم سے جنت میں آ جانے والے فرد کو ، جنت میں ملنے والی نعمتوں ) میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔