مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات

بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان

حدیث نمبر: 18508
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَفْوًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي " . فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَخْبَأُ ذَلِكَ رَبُّكَ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبِّرُ فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ " . ¤ فَقَالَ أَبُو رُهْمٍ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، وَمَا تَظُنُّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بِأَفْوَاهِهِمْ ، فَقَالُوا : وَمَا أَنْتَ وَخَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : دَعُوهُ ، أُخْبِرْكُمْ عَنْ خَبِيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَظُنُّ ، بَلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ : إِنَّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقُولَ : " رَبِّ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، مُصَدِّقًا لِسَانُهُ قَلْبَهُ ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ نَاشِرٌ مِنْ بَنِي سَرِيعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ان سے فرمایا : ” میرے پروردگار نے مجھے یہ اختیار دیا کہ ( یعنی میری امت کے ) ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہو جائیں ، جو معافی کے طور پر کسی حساب کے بغیر ہوں ، یا یہ ہو کہ پروردگار کے پاس میں اپنی امت کے لئے ( یعنی شفاعت ) کو سنبھال کے رکھ لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا پروردگار اسے سنبھال کے رکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے پھر آپ تشریف لائے تو آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے مجھے مزید یہ چیز عطا کی ہے کہ ہر ایک ہزار کے ہمراہ ستر ہزار مزید ہوں گے اور اس کے پاس سنبھال کے رکھوائی گئی چیز ( یعنی شفاعت ) بھی ہے ۔ ابورہم نے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنبھال کے رکھوائی گئی چیز کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ لوگ اس کو اپنے منہ کے ذریعے کھا رہے ہیں ( شاید یہ مراد ہے کہ لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ) لوگ یہ کہہ رہے ہیں : تمہارا اللہ کے رسول کی سنبھال کے رکھی گئی چیز کے ساتھ کیا واسطہ ؟ تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اُسے رہنے دو ! میں تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنبھال کے رکھی گئی چیز کے بارے میں بتاتا ہوں ، جیسا کہ میرا گمان ہے ، بلکہ جیسا کہ یقین ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنبھال کے رکھی گئی چیز یہ ہے کہ آپ یہ کہیں گے : اے میرے پروردگار ! جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہے ، تو اُسے جنت میں داخل کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ناشر ہے جس کا تعلق بنو سریع سے ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18508
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3882) اخرجه احمد فى المسند (413/5)»