مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات

بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان

حدیث نمبر: 18509
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَادِمٌ تَخْدِمُهُ يُقَالُ لَهَا : بُرَّةُ ، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَقَالَ : يَا بُرَّةُ غَطِّي شُعَيْفَاتِكِ ; فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَنْ يُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مُحْمَرَّةً وَجْنَتَاهُ ، وَكُنَّا - مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ - نَعْرِفُ غَضَبَهَ بِجَرِّ رِدَائِهِ وَحُمْرَةِ وَجْنَتَيْهِ ، فَأَخَذْنَا السِّلَاحَ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنَا بِمَا شِئْتَ ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَمَرْتَنَا بِأُمَّهَاتِنَا ، وَآبَائِنَا ، وَأَوْلَادِنَا ، لَأَمْضَيْنَا قَوْلَكَ فِيهِمْ . فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " . قُلْنَا : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " نَعَمْ . وَلَكِنْ مَنْ أَنَا ؟ " . فَقُلْنَا : أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . قَالَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ دَاخِلٍ الْجَنَّةَ وَلَا فَخْرَ . مَا بَالُ قَوْمٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَحِمِي لَا يَنْفَعُ ؟ لَيْسَ كَمَا زَعَمُوا ، إِنِّي لَأَشْفَعُ وَأُشَفَّعُ حَتَّى إِنَّ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ يَشْفَعُ فَيُشَفَّعُ ، حَتَّى إِنَّ إِبْلِيسَ لَيَتَطَاوَلُ فِي الشَّفَاعَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي عُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی ایک خادمہ تھی جو آپ کی خدمت کیا کرتی تھی ، اُس کا نام ” برہ “ تھا ، ایک شخص اس خاتون سے ملا اور بولا: اے برہ ! تم اپنی لٹوں کو ڈھانپ کے رکھو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے ، اُس خادمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے تشریف لائے ، آپ کی کنپٹیاں سرخ ہو رہی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں انصار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کا اس بات سے پتہ چل گیا کہ آپ چادر گھسیٹتے ہوئے آ رہے ہیں ، اور آپ کی کنپٹیاں سرخ ہیں ، ہم نے ہتھیا لئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو چاہیں ، ہمیں حکم دیں ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ ہمیں ہماری ماؤں ، ہمارے باپوں ، ہماری اولاد کے بارے میں حکم دیں گے ، تو ہم ان کے بارے میں بھی آپ کے فرمان پر عمل کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : میں کون ہوں ؟ ہم نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، لیکن میں کون ہوں ؟ ہم نے عرض کی : آپ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بن عبدالله بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اولاد آدم کا سردار ہوں ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنے سر سے مٹی جھاڑوں گا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور میں جنت میں داخل ہونے والا پہلا فرد ہوؤں گا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ میرے ساتھ رشتہ داری فائدہ نہیں دے گی ، ایسا نہیں ہے جیسا وہ لوگ گمان کرتے ہیں ، میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول کی جائے گی ، یہاں تک کہ جس کی میں شفاعت کروں گا ، وہ شفاعت کرے گا تو اُس کی بھی شفاعت قبول کی جائے گی ، اور ( میری ) شفاعت کے حصول کے لئے ابلیس بھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ عبید بن اسحاق عطار اور قاسم بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن عقیل نامی راویوں میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18509
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف