کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شفاعت کا مزید بیان

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان
حدیث نمبر: 18505
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ فَيُفْتَحُ لِي بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ، وہ میرے لئے کھول دیا جائے گا ، وہ سونے سے بنا ہوا دروازہ ہو گا ، جس کی کنڈی چاندی کی بنی ہوئی ہو گی ، میرے سامنے سب سے بڑا نور آئے گا تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ کی ثناء کے بارے میں ایسے کلمات مجھے القاء کئے جائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کو القاء نہیں کیے گئے ، پھر مجھ سے کہا: جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم مانگو ، وہ دیا جائے گا ، تم کہو ، سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں یہ کہوں گا : میری امت ، تو یہ کہا: جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں ، جو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر میں دوسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر مجھے اس کی مانند کلمات القاء کیے جائیں گے ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی اور میں یہ کہوں گا : میری امت ، مجھ سے کہا: جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر میں تیسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی ، پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور یہ کہوں گا : میری امت ، تو مجھ سے کہا: جائے گا : تمہیں ہر وہ فرد ملتا ہے جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں اور دوسری کتابوں میں کچھ احادیث مذکور ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4130)»
حدیث نمبر: 18506
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ الصِّرَاطَ ، إِذْ جَاءَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . قَالَ : " فَقَالَ : هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ أَتَتْكَ يَا مُحَمَّدُ ، يَسْأَلُونَ - أَوْ قَالَ : يَجْتَمِعُونَ - إِلَيْكَ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ جَمِيعِ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ لِغَمِّ مَا هُمْ فِيهِ ، فَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزُّكْمَةِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ " . قَالَ : " قَالَ عِيسَى : انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ " . قَالَ : " ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى ، وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَنِ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ " . ¤ قَالَ : " فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أُخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا وَاحِدًا " . قَالَ : " فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَلَا أَقُومُ مِنْهُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ حَتَّى أَعْطَانِي اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ : " [ يَا مُحَمَّدُ ] أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا ، وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ” میں کھڑا ہوا اپنی امت کا انتظار کروں گا ، جو پل صراط عبور کر رہی ہو گی ، اسی دوران سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ یہ کہیں گے : یہ انبیاء آپ کے پاس آئے ہیں ، اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اور وہ یہ سوال کرتے ہیں ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ آپ کے پاس اکٹھے ہوئے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے ہیں کہ وہ اُمتوں کے اجتماع کو الگ الگ کر دے ، جہاں وہ چاہے کہ لوگ اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہیں ، لوگ اس وقت پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ، جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو وہ اس کے لیے یوں ہو گا جیسے زکام ہوتا ہے اور جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو موت نے اسے ڈھانپ لیا ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : آپ انتظار کریں ، جب تک میں آپ کے پاس واپس نہیں آتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور عرش کے نیچے کھڑے ہو جائیں گے اور اس وقت انہیں اس صورتحال کا سامنا ہو گا ، جس کا سامنا کسی منتخب فرشتے یا کسی مرسل نبی نے نہیں کیا ، پھر اللہ تعالیٰ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا : کہ تم سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو : کہ تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم سوال کرو ، تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو مجھے شفاعت میں یہ اختیار دیا جائے گا کہ میں ان میں سے ہر ننانوے میں سے ایک انسان کو نکال لوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں مسلسل اپنے پروردگار کے پاس آتا جاتا رہوں گا ، میں جب بھی اس کی بارگاہ میں کھڑا ہوؤں گا میری شفاعت قبول ہو گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں سے یہ چیز عطا کرے گا کہ وہ فرمائے گا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کی مخلوق میں سے اپنی امت میں سے ، ہر اس شخص کو داخل کروا دو جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جس نے اخلاص کے ساتھ ایک دن یہ گواہی دی ہو اور وہ اس حالت میں مر گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18506
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (178/3)»
حدیث نمبر: 18507
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ، فَجَلَسَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ مَكَثَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى بَيْتِهِ ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ : أَلَا تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَأْنُهُ ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ ! فَسَأَلَهُ فَقَالَ : " نَعَمْ . عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَأَمْرِ الْآخِرَةِ ، فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ ، فَقَطَعَ النَّاسُ بِذَلِكَ حَتَّى انْطَلَقُوا إِلَى آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ ، قَالُوا : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ ، وَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا ، قَالَ : لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ ، انْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ ، إِلَى نُوحٍ ، إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ " . ¤ قَالَ : " فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُونَ : اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا ، فَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ ، وَلَمْ تَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ، فَيَقُولُ : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، انْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اتَّخَذَهُ خَلِيلًا . فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، انْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا ، فَيَقُولُ مُوسَى : - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّهُ كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى . فَيَقُولُ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ قَالَ : " فَيَنْطَلِقُونَ فَيَأْتِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَبَّهُ ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ ، وَيَقُولُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ " . قَالَ : " فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ " . ¤ قَالَ : " فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا ، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِضَبْعَيْهِ ، فَيَفْتَحُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ مَا لَا يَفْتَحُهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ ، يَقُولُ : رَبِّ خَلَقْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ ، ثُمَّ يُقَالُ : ادْعُوا الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ ، لِمَنْ أَرَادُوا " . ¤ قَالَ : " فَإِذَا فَعَلَ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا " . قَالَ : " فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : انْظُرُوا فِي النَّارِ هَلْ تَلْقَوْنَ أَحَدًا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ ؟ " . ¤ قَالَ : " فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُونَ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا . غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ [ وَالشِّرَاءِ ] ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي . ¤ ثُمَّ يُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا . غَيْرَ أَنِّي [ قَدْ ] أَمَرْتُ وَلَدِي إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ ، ثُمَّ اطْحَنُونِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ فَاذْهَبُوا بِي فِي الْبَحْرِ فَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ ، فَوَاللَّهِ لَا يَقْدِرُ عَلَيَّ رَبُّ الْعَالَمِينَ أَبَدًا ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِنْ مَخَافَتِكَ ! " . قَالَ : " فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : انْظُرْ إِلَى مُلْكِ أَعْظَمِ مَلِكٍ ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ " . قَالَ : " فَيَقُولُ : لِمَ تَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ ! قَالَ : وَذَاكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی ، پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے پھر آپ اپنی جگہ پر رہے ، یہاں تک کہ آپ نے ظہر ، عصر اور مغرب کی نماز پڑھائی ، اس دوران آپ نے کوئی گفتگو نہیں کی ، یہاں تک کہ آپ نے عشاء کی نماز پڑھا دی ، پھر آپ اُٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے ، لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج جو طرز عمل اختیار کیا ہے وہ آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ، سیدنا ابوبکر صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! دنیا کے معاملے سے متعلق اور آخرت کے معاملے سے متعلق جو کچھ بھی ہو گا ، وہ میرے سامنے پیش کیا گیا ، سب پہلے والے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا ، لوگ اس صورتحال سے پریشان ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، پسینہ اتنا زیادہ ہو گا کہ انہیں لگام ڈال رہا ہو گا ، وہ کہیں گے : اے سیدنا آدم ( علیہ السلام ) ! آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے : مجھے بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے جس کا سامنا تم لوگ کر رہے ہو ، تم اپنے دوسرے جدامجد سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ! ” بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم ، نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو تمام جہانوں میں سے منتخب کیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے : آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا اس نے آپ کی دعا کو مستجاب کیا اور اس نے روئے زمین پر کافروں کو بستا ہوا نہیں رہنے دیا ، تو سیدنا نوح علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں خلیل بنایا ہے ، لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ یہ کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کلام کیا ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ پیدائشی اندھے ، برص ( یعنی پھلبہری ) کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم اولاد آدم کے سردار کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ پہلے فرد ہیں ، جن کے لیے قیامت کے دن زمین کو شق کیا گیا ، تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ! وہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ جائیں گے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے پاس آئیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پروردگار یہ فرمائے گا : اُسے اجازت دو ! اور اُسے جنت کی خوشخبری دو ! ۔ ( شاید یہاں عربی عبارت میں کوئی کمی ہے ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے وہ سجدے میں چلے جائیں گے جو ایک ہفتے تک ہو گا ، پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ! تم کہو تمہیں سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے ، جب آپ اپنے پروردگار کی طرف دیکھیں گے تو پھر سجدے میں چلے جائیں گے جو مزید ایک ہفتے کے لیے ہو گا ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم کہو تمہیں سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ پھر سجدے میں جانے لگیں گئے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام بازوؤں سے آپ کو پکڑ لیں گے ، اس وقت اللہ تعالیٰ دعا کے ایسے کلمات آپ کے لئے کشادہ کرے گا کہ وہ کلمات اس نے کسی بشر کے لئے کبھی نہیں کشادہ نہیں کیے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اولاد آدم کا سردار بنایا ہے اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور مجھے وہ پہلا فرد بنایا ہے جس کے لیے قیامت کے دن زمین کو شق کیا گیا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہاں تک کہ اس حوض پر میرے پاس لوگ آئیں گے ، جو اس سے زیادہ بڑا ہے ، جتنا صنعاء اور ایلہ کے درمیان فاصلہ ہے ، پھر یہ کہا: جائے گا : صدیقین کو بلاؤ ، وہ شفاعت کریں گے ، پھر یہ کہا: جائے گا : انبیاء کو بلاؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ایک نبی آئے گا ، اس کے ساتھ کچھ لوگ ہوں گے ، کوئی نبی آئے گا اس کے ساتھ پانچ یا چھ افراد ہوں گے ، کوئی نبی آئے گا ، جس کے ساتھ کوئی نہیں ہو گا ، پھر یہ کہا: جائے گا : شہداء کو بلاؤ ! تو وہ جس کے بارے میں چاہیں گے اس کی شفاعت کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب شہداء ایسا کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں ، تم میری جنت میں ہر اُس شخص کو داخل کر دو جو کسی کو میرا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم جہنم کا جائزہ لو ! کیا تمہیں کوئی ایسا شخص ملتا ہے جس نے کبھی کوئی بھلائی کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ ( یعنی فرشتے ) جہنم میں ایک شخص کو پائیں گے ، وہ دریافت کریں گے : کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی ہے ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! البتہ میں خرید و فروخت کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرتا تھا ، اللہ تعالٰی فرمائے گا : میرے بندے کے ساتھ نرمی کرو ! جس طرح یہ میرے بندوں کے ساتھ نرمی کیا کرتا تھا ۔ پھر وہ جہنم سے ایک شخص کو باہر نکالیں گے اور اس سے دریافت کریں گے : کیا تم نے بھی کوئی بھلائی کی ہے ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! البتہ یہ ہے کہ میں نے اپنی اولاد کو یہ حکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھے آگ کے ذریعے جلا دینا ، پھر تم مجھے پیس دینا یہاں تک کہ جب میں سرمے کی طرح ( راکھ ) ہو جاؤں تو تم مجھے سمندر میں لے جانا اور مجھے ہوا میں اُڑا دینا ، اللہ کی قسم ! تمام جہانوں کا پروردگار مجھے کبھی مشقت کا شکار نہیں کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ جواب دے گا : تیرے خوف کی وجہ سے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم اس کا جائزہ لو ، جو سب سے بڑی مملکت ہے ، تمہیں اس کی مانند اور اس جیسا دس گنا مزید ملتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص کہے گا : تو میرا مذاق کیوں اڑا رہا ہے ؟ جبکہ تو بادشاہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بات پر میں چاشت کے وقت ہنسا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18507
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3465) اخرجه ابو يعلى فى المسند (56) اخرجه احمد فى المسند (15)»
حدیث نمبر: 18508
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَفْوًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي " . فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَخْبَأُ ذَلِكَ رَبُّكَ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبِّرُ فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ " . ¤ فَقَالَ أَبُو رُهْمٍ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، وَمَا تَظُنُّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بِأَفْوَاهِهِمْ ، فَقَالُوا : وَمَا أَنْتَ وَخَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : دَعُوهُ ، أُخْبِرْكُمْ عَنْ خَبِيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَظُنُّ ، بَلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ : إِنَّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقُولَ : " رَبِّ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، مُصَدِّقًا لِسَانُهُ قَلْبَهُ ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ نَاشِرٌ مِنْ بَنِي سَرِيعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ان سے فرمایا : ” میرے پروردگار نے مجھے یہ اختیار دیا کہ ( یعنی میری امت کے ) ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہو جائیں ، جو معافی کے طور پر کسی حساب کے بغیر ہوں ، یا یہ ہو کہ پروردگار کے پاس میں اپنی امت کے لئے ( یعنی شفاعت ) کو سنبھال کے رکھ لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا پروردگار اسے سنبھال کے رکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے پھر آپ تشریف لائے تو آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے مجھے مزید یہ چیز عطا کی ہے کہ ہر ایک ہزار کے ہمراہ ستر ہزار مزید ہوں گے اور اس کے پاس سنبھال کے رکھوائی گئی چیز ( یعنی شفاعت ) بھی ہے ۔ ابورہم نے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنبھال کے رکھوائی گئی چیز کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ لوگ اس کو اپنے منہ کے ذریعے کھا رہے ہیں ( شاید یہ مراد ہے کہ لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ) لوگ یہ کہہ رہے ہیں : تمہارا اللہ کے رسول کی سنبھال کے رکھی گئی چیز کے ساتھ کیا واسطہ ؟ تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اُسے رہنے دو ! میں تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنبھال کے رکھی گئی چیز کے بارے میں بتاتا ہوں ، جیسا کہ میرا گمان ہے ، بلکہ جیسا کہ یقین ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنبھال کے رکھی گئی چیز یہ ہے کہ آپ یہ کہیں گے : اے میرے پروردگار ! جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہے ، تو اُسے جنت میں داخل کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ناشر ہے جس کا تعلق بنو سریع سے ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18508
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3882) اخرجه احمد فى المسند (413/5)»
حدیث نمبر: 18509
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَادِمٌ تَخْدِمُهُ يُقَالُ لَهَا : بُرَّةُ ، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَقَالَ : يَا بُرَّةُ غَطِّي شُعَيْفَاتِكِ ; فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَنْ يُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مُحْمَرَّةً وَجْنَتَاهُ ، وَكُنَّا - مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ - نَعْرِفُ غَضَبَهَ بِجَرِّ رِدَائِهِ وَحُمْرَةِ وَجْنَتَيْهِ ، فَأَخَذْنَا السِّلَاحَ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنَا بِمَا شِئْتَ ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَمَرْتَنَا بِأُمَّهَاتِنَا ، وَآبَائِنَا ، وَأَوْلَادِنَا ، لَأَمْضَيْنَا قَوْلَكَ فِيهِمْ . فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " . قُلْنَا : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " نَعَمْ . وَلَكِنْ مَنْ أَنَا ؟ " . فَقُلْنَا : أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . قَالَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ دَاخِلٍ الْجَنَّةَ وَلَا فَخْرَ . مَا بَالُ قَوْمٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَحِمِي لَا يَنْفَعُ ؟ لَيْسَ كَمَا زَعَمُوا ، إِنِّي لَأَشْفَعُ وَأُشَفَّعُ حَتَّى إِنَّ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ يَشْفَعُ فَيُشَفَّعُ ، حَتَّى إِنَّ إِبْلِيسَ لَيَتَطَاوَلُ فِي الشَّفَاعَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي عُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی ایک خادمہ تھی جو آپ کی خدمت کیا کرتی تھی ، اُس کا نام ” برہ “ تھا ، ایک شخص اس خاتون سے ملا اور بولا: اے برہ ! تم اپنی لٹوں کو ڈھانپ کے رکھو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے ، اُس خادمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے تشریف لائے ، آپ کی کنپٹیاں سرخ ہو رہی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں انصار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کا اس بات سے پتہ چل گیا کہ آپ چادر گھسیٹتے ہوئے آ رہے ہیں ، اور آپ کی کنپٹیاں سرخ ہیں ، ہم نے ہتھیا لئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو چاہیں ، ہمیں حکم دیں ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ ہمیں ہماری ماؤں ، ہمارے باپوں ، ہماری اولاد کے بارے میں حکم دیں گے ، تو ہم ان کے بارے میں بھی آپ کے فرمان پر عمل کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : میں کون ہوں ؟ ہم نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، لیکن میں کون ہوں ؟ ہم نے عرض کی : آپ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بن عبدالله بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اولاد آدم کا سردار ہوں ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنے سر سے مٹی جھاڑوں گا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور میں جنت میں داخل ہونے والا پہلا فرد ہوؤں گا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ میرے ساتھ رشتہ داری فائدہ نہیں دے گی ، ایسا نہیں ہے جیسا وہ لوگ گمان کرتے ہیں ، میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول کی جائے گی ، یہاں تک کہ جس کی میں شفاعت کروں گا ، وہ شفاعت کرے گا تو اُس کی بھی شفاعت قبول کی جائے گی ، اور ( میری ) شفاعت کے حصول کے لئے ابلیس بھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ عبید بن اسحاق عطار اور قاسم بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن عقیل نامی راویوں میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18509
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18510
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَقَضَى بَيْنَهُمْ وَفَرَغَ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَهُمْ ، قَالَ الْمُؤْمِنُونَ : قَدْ قُضِيَ بَيْنَنَا [ رَبُّنَا ] ، فَنُرِيدُ مَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا ، انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ ; فَإِنَّهُ أَبُونَا ، وَخَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ وَكَلَّمَهُ ، فَيَأْتُونَهُ فَيُكَلِّمُونَهُ أَنْ يَشْفَعَ لَهُمْ فَيَقُولُ : عَلَيْكُمْ بِنُوحٍ . فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَدُلُّهُمْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَدُلُّهُمْ عَلَى مُوسَى ، فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَدُلُّهُمْ عَلَى عِيسَى ، ثُمَّ يَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ : أَدُلُّكُمْ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ ، فَيَأْتُونِي فَيَأْذَنُ اللَّهُ لِي أَنْ أَقُومَ ، فَيَثُورُ مَجْلِسِي مِنْ أَطْيَبِ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ ، حَتَّى آتِيَ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيُشَفِّعَنِي وَيَجْعَلَ لِي نُورًا مِنْ شَعْرِ رَأْسِي إِلَى ظُفْرِ قَدَمِي . ثُمَّ يَقُولُ الْكُفَّارُ : هَذَا قَدْ وَجَدَ الْمُؤْمِنُونَ مَنْ شَفَعَ لَهُمْ ، فَمَنْ يَشْفَعُ لَنَا ؟ فَيَقُولُونَ : مَا هُوَ غَيْرَ إِبْلِيسَ ، هُوَ الَّذِي أَضَلَّنَا ، فَيَأْتُونَهُ فَيَقُومُ فَيَثُورُ مَجْلِسَهُ أَنْتَنُ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ ، ثُمَّ يُورِدُهُمْ جَهَنَّمَ وَيَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ : " وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ سب پہلے والوں ، سب بعد والوں کو جمع کرے گا اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ، جب وہ ان کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا تو مومنین یہ کہیں گے : ہمارے پروردگار نے ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا ہے ، تو اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے ، تم لوگ ہمارے ساتھ سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف چلو ! کیونکہ وہ ہمارے جدامجد ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے انہیں پیدا کیا ہے اور ان کے ساتھ کلام کیا ہے ، وہ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان کے ساتھ یہ بات چیت کریں گے کہ سیدنا آدم علیہ السلام ان کی شفاعت کریں ، تو سیدنا آدم علیہ السلام یہ کہیں گے : تم پر لازم ہے کہ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ، وہ لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، سیدنا نوح علیہ السلام ان کی رہنمائی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف کریں گے ، وہ لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اُن کی رہنمائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف کریں گے ، وہ لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام ان کی رہنمائی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کریں گے ، پھر وہ لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ یہ کہیں گے : میں تمہاری رہنمائی ” امی نبی “ کی طرف کرتا ہوں ، تو وہ لوگ میرے پاس آئیں گے ، اللہ تعالیٰ مجھے اجازت دے گا کہ میں کھڑا ہو جاؤں ، تو میری محفل میں سب سے زیادہ پاکیزه ترین خوشبو پھیل جائے گی ، جو کسی بھی شخص نے سونگھی ہو ، یہاں تک کہ میں اپنے پروردگار کے پاس آ جاؤں گا ، وہ میری شفاعت قبول کرے گا ، وہ میرے لئے میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پاؤں کے ناخنوں تک نور بنائے گا ، پھر کافر یہ کہیں گے : مؤمن نے تو اس کو پا لیا ہے ، جو ان کی شفاعت کرے ، ہماری شفاعت کون کرے گا ؟ تو وہ کہیں گے : یہ کام صرف ابلیس کر سکتا ہے ، جس نے ہمیں گمراہ کیا تھا ، وہ لوگ اس کے پاس آئیں گے ، وہ کھڑا ہو گا ، تو اس کی محفل میں سب سے زیادہ بری بدبو پھیل جائے گی ، جو کسی شخص نے سونگھی ہو ، پھر وہ انہیں جہنم کے پاس لے جائے گا اس وقت وہ یہ کہے گا : جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ” اور جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا اور میں نے تمہارے ساتھ اس کی خلاف ورزی کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18510
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (320/17)»
حدیث نمبر: 18511
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدْخُلُ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ النَّارَ مَنْ لَا يُحْصِي عَدَدَهُمْ إِلَّا اللَّهُ مَا عَصَوُا اللَّهَ وَاجْتَرَءُوا عَلَى مَعْصِيَتِهِ ، وَخَالَفُوا طَاعَتَهُ ، فَيُؤْذَنُ لِي فِي الشَّفَاعَةِ فَأُثْنِي عَلَى اللَّهِ سَاجِدًا كَمَا أُثْنِي عَلَيْهِ قَائِمًا ، فَيُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس قبلہ کے ماننے والوں میں سے اتنے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ، جن کی تعداد کو اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی شمار نہیں کر سکتا ، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اُن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو گی اور اس کی معصیت کے بارے میں جرأت کا اظہار کیا ہو گا اور اس کی فرمانبرداری کے برخلاف کیا ہو گا ، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی ، تو میں سجدے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کروں گا ، جس طرح میں نے قیام کی حالت میں اُس کی ثناء بیان کی تھی ، تو مجھ سے کہا: جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم مانگو ، تمہیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول کی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (103)»
حدیث نمبر: 18512
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَسَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِغَيْرِ فَخْرٍ وَلَا رِيَاءٍ ، وَمَا مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَهُوَ تَحْتَ لِوَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْتَظِرُ الْفَرَجَ ، وَإِنَّ مَعِي لِوَاءَ الْحَمْدِ ، أَمْشِي وَيَمْشِي النَّاسُ مَعِي حَتَّى آتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ ، فَأَسْتَفْتِحُ فَيُقَالُ : مَنْ هَذَا ؟ فَأَقُولُ : مُحَمَّدٌ ، فَيُقَالُ : مَرْحَبًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي خَرَرْتُ لَهُ سَاجِدًا شُكْرًا لَهُ ، فَيُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، قُلْ تُطَاعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَيَخْرُجُ مَنْ قَدْ أُحْرِمَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَشَفَاعَتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوؤں گا اور یہ بات کسی فخر یا ریاکاری کے بغیر کہہ رہا ہوں ، اور قیامت کے دن سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے ، اور کشادگی کے منتظر ہوں گے ، میرے پاس ” لواء الحمد “ ہو گا ، میں چلتا ہوا جاؤں گا ، لوگ میرے ساتھ چلتے ہوئے جائیں گے ، یہاں تک کہ میں جنت کے دروازے کے پاس آ جاؤں گا اور میں دروازہ کھولنے کے لیے کہوں گا ، تو دریافت کیا جائے گا : کون ہے ؟ میں جواب دوں گا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید ! جب میں اپنے پروردگار کو دیکھوں گا ، تو میں اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا ، یہ اُس کے شکر کے طور پر ہو گا ، تو کہا: جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ! تم کہو ، تمہاری بات مانی جائے گی ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ( تو میری شفاعت کے نتیجے میں ) ہر وہ شخص جہنم سے نکل آئے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور میری شفاعت پر یقین رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18512
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18513
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَكْسُونِي رَبِّي حُلَّةً خَضْرَاءَ ، ثُمَّ يَأْذَنُ لِي فَأُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، تو میں اور میری اُمت قیامت کے دن ایک ٹیلے پر ہوں گے ، میرا پروردگار مجھے سبز حلہ پہنائے گا ، پھر وہ مجھے اجازت دے گا تو میں اُس کی شان کے مطابق اس کی ثناء بیان کروں گا ، یہ ” مقام “ محمود ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18513
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (72/19) اخرجه احمد فى المسند (456/21)»
حدیث نمبر: 18514
وَعَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَدْعُونِي رَبِّي فَأَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، لَبَّيْكَ فِي صَانَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، عَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوؤں گا ، میرا پروردگار مجھے بلائے گا ، میں کہوں گا : میں حاضر ہوں ، سعادت تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے ، بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، تو برکت والا ہے ، تو بلند و برتر ہے ، میں تیری مہربانی میں حاضر ہوں ، وہ ہدایت یافتہ ہے ، جسے تو نے ہدایت عطا کی ہو ، تیرا بندہ تیرے سامنے ہے ، تیرے مقابلے میں پناہ گاہ اور جائے نجات صرف تیری ذات ہے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1062)»
حدیث نمبر: 18515
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، وَلَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ فَأَوَّلُ مَنْ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - يَتَكَلَّمُ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ : " لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، وَمِنْكَ وَإِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ " . فَهَذَا قَوْلُهُ : " عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا ، کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا ، سب سے پہلے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کلام کریں گے اور وہ یہ کہیں گے : ” میں حاضر ہوں ، سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے ، بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے ، برائی تیری طرف نہیں جا سکتی ، ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو نے ہدایت عطا کی ہو ، تیرا بندہ تیرے سامنے ہے ، تیری مدد سے ہے ، تیری طرف لوٹنے والا ہے ، تیرے مقابلے میں کوئی پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں ہے ، صرف تیری ہی ذات ہے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، گھر ( یعنی خانہ کعبہ ) کے پروردگار ! “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ولکن موقوف،
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3462)»
حدیث نمبر: 18516
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَشْفَعُ لِأُمَّتِي حَتَّى يُنَادِيَنِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُ : قَدْ رَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ ؟ فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، قَدْ رَضِيتُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَارِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا ، یہاں تک کہ میرا پروردگار مجھے مخاطب کر کے فرمائے گا : اے محمد ! تم راضی ہو گئے ؟ میں عرض کروں گا : اے میرے پروردگار ! تحقیق میں راضی ہو گیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن أحمد بن زید مداری ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اُن میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3466)»
حدیث نمبر: 18517
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسٌ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا مُشْرِقَ الْوَجْهِ يَتَهَلَّلُ ، فَقُمْنَا فِي وَجْهِهِ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَرَّكَ اللَّهُ إِنَّهُ لَيَسُرُّنَا مَا نَرَى مِنْ إِشْرَاقِ وَجْهِكَ وَتَطَلُّقِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي آنِفًا فَبَشَّرَنِي أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَعْطَانِيَ الشَّفَاعَةَ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفِي بَنِي هَاشِمٍ خَاصَّةً ؟ قَالَ : " لَا " . فَقُلْنَا : فِي قُرَيْشٍ خَاصَّةً ؟ قَالَ : " لَا " . فَقُلْنَا : فِي أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " هِيَ فِي أُمَّتِي لِلْمُذْنِبِينَ الْمُثْقَلِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ النَّصْرِيُّ مُتَأَخِّرٌ يَرْوِي عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے صحن میں ( شاید یہ مراد ہے آپ کے گھر کے باہر ) موجود تھے ، اسی دوران آپ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کا چہرہ مبارک چمک رہا تھا اور جگمگا رہا تھا ، آپ کے چہرے کو دیکھ کر ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے ، آپ کے چہرے کی چمک اور خوشی دیکھ کر ہمیں بھی خوشی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاعت عطا کی ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بنو ہاشم کے بارے میں مخصوص ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! ہم نے دریافت کیا : کیا یہ قریش کے بارے میں مخصوص ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! ہم نے دریافت کیا : کیا آپ کی امت کے بارے میں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ میری امت کے گناہ گار بوجھل لوگوں کے لئے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد نصری ہے جو بعد کے زمانے کا ہے ، اس نے اوزاعی سے روایات نقل کی ہیں اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18518
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نِعْمَ الرَّجُلُ أَنَا لِشِرَارِ أُمَّتِي " . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : كَيْفَ أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ ، لِخِيَارِهِمْ ؟ قَالَ : " أَمَّا شِرَارُ أُمَّتِي فَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي ، وَأَمَّا خِيَارُهُمْ فَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِأَعْمَالِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمِيعُ بْنُ ثَوْبٍ الرَّجَمِيُّ ، وَهُوَ بِفَتْحِ الْجِيمِ ، وَكَسْرِ الْمِيمِ ، عَلَى الْمَشْهُورِ ، وَقِيلَ بِالتَّصْغِيرِ ، قَالَ فِيهِ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ : مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : رِوَايَاتُهُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنی امت کے برے لوگوں کے لئے سب سے بہتر ” میں “ ہوں ۔ “ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کے بہتر لوگوں کے لیے آپ کیسے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک میری امت کے برے لوگوں کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ میری شفاعت کی وجہ سے انہیں جنت میں داخل کرے گا ، جہاں تک نیک لوگوں کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثوب رحبی ہے اس میں جیم پر زبر ہے اور میم پر پیش ہے ، مشہور قول یہی ہے ، ایک قول کے مطابق یہ لفظ اسم تصغیر کے طور پر ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس راوی کے بارے میں یہ کہا: ہے : یہ منکر الحدیث ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: ہے : یہ متروک الحدیث ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18518
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7483)»
حدیث نمبر: 18519
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : " شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : السَّابِقُ بِالْخَيْرَاتِ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَالْمُقْتَصِدُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ ، وَالظَّالِمُ لِنَفْسِهِ وَأَهْلُ الْأَعْرَافِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری شفاعت میری اُمت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہو گی ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، میانہ روی اختیار کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اوپر ظلم کرنے والے لوگ اور اعراف میں رہنے والے لوگ ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ اس صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن سنانی ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18519
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11454)»
حدیث نمبر: 18520
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ; لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَأُ ، تَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ ؟ لَا . وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّائِينَ " . ¤ قَالَ زِيَادٌ : أَمَا إِنَّهَا نَحْنُ وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ لِلْمُؤْمِنِينَ الْمُتَّقِينَ ، وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ النُّعْمَانِ بْنِ قُرَادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے شفاعت اور اس بات کے درمیان اختیار دیا گیا کہ میری امت کا نصف ( حصہ ) جنت میں داخل ہو جائے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، کیونکہ وہ زیادہ عمومی اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے ، کیا تم اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہو ؟ کہ وہ صاف ستھرے ( یعنی پرہیزگار ) لوگوں کے لیے ہو گی ؟ جی نہیں ! بلکہ وہ یعنی گناہوں میں ملوث ہونے والے خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔ “ زیاد کہتے ہیں : اگرچہ ہم ایسے ہیں لیکن جس نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے اس نے ہمیں یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” پرہیزگار مومنین کے لئے نہیں ہو گی بلکہ یہ گناہ گاروں خطاکاروں اور ( برائیوں میں ) ملوث ہونے والے لوگوں کے لیے ہو گی ۔ “ طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعمان بن قراد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5452)»
حدیث نمبر: 18521
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18521
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (448) أخرجه البزار فى المسند (3469) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4105) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (749)»
حدیث نمبر: 18522
وَفِي رِوَايَةٍ فِيهِمَا : " إِنَّمَا جُعِلَتِ الشَّفَاعَةُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " . وَفِيهِ الْخَزْرَجُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان دونوں میں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” شفاعت کو میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے بنایا گیا ہے ۔ “ اس کی سند میں ایک راوی خزرج بن عثمان ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ہزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18522
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1101)»
حدیث نمبر: 18523
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نُمْسِكُ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا نَبِيَّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي ادَّخَرْتُ شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَأَمْسَكْنَا عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا كَانَ فِي أَنْفُسِنَا ، وَرَجَوْنَا لَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ سُرَيْجٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ” پہلے ہم کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے باز رہتے تھے ، یہاں تک کہ ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میں نے اپنی شفاعت کو قیامت کے دن اپنی امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں ( کی شفاعت ) کے لیے سنبھال لیا ہے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو ہم اس چیز سے باز آ گئے جو ہم پہلے طرز عمل اختیار کرتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کے بارے میں امید رکھنا شروع کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرب بن سریج ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18523
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 18524
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْمَلِي وَلَا تَتَّكِلِي ; فَإِنَّ شَفَاعَتِي لِلْهَالِكِينَ مِنْ أُمَّتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَخْرَمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم عمل کرو ! اور تم تکیہ نہ کرو ! بے شک میری شفاعت میری امت کے ہلاکت کا شکار ہونے والے ( یعنی گناہ گار لوگوں ) کے لئے ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مخرم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18524
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (369/23)»
حدیث نمبر: 18525
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَإِذَا رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ : يَا مُعَاوِيَةُ ، أَتَأْذَنُ لِي فِي الْكَلَامِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُشَفَّعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدَدَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ وَمَدَرَةٍ " . قَالَ : فَتَرْجُوهَا أَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ وَلَا يَرْجُوهَا عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ؟ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ . . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہاں ایک شخص کلام کر رہا تھا ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا معاویہ ! کیا آپ مجھے کلام کرنے کی اجازت دیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی اسی طرح کلام کریں گے جس طرح دوسرا شخص کر رہا تھا ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے یہ امید ہے کہ میں قیامت کے دن اتنی تعداد میں لوگوں کی شفاعت کروں گا جتنے زمین میں درخت اور پتھر ( یا ڈھیلے ہیں ) ۔ “ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے معاویہ ! آپ کو اس ( شفاعت ) کی امید ہو گی ، تو کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کی امید نہیں ہو گی ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ابواسرائیل ملائی نامی راوی میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (347/5)»
حدیث نمبر: 18526
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَكَثِيرٌ الْحَجَرُ وَالشَّجَرُ ؟ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَشَفَاعَتِي أَكْثَرُ مِنَ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کیا پتھر اور درخت بکثرت ہیں ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری شفاعت پتھروں اور درختوں سے زیادہ تعداد میں ( لوگوں کے لیے ) ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عبداللہ بن بریدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18527
وَعَنْ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأُشَفَّعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِمَّا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ حَجَرٍ وَمَدَرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، وَيُعْرَفُ بِالْقِلَّوْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انیس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن میں ہر اس چیز ( کی تعداد جتنے افراد ) کی شفاعت کروں گا جو چیز روئے زمین پر موجود ہے ، جس کا تعلق درختوں اور پتھروں سے ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عمرو ہے جو علی بن مدینی کا شاگرد ہے اور قلوری کے نام سے معروف ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18528
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي آتِي بَابَ جَهَنَّمَ فَأَضْرِبُ بَابَهَا فَيُفْتَحُ لِي ، فَأَدْخُلُهَا فَأَحْمَدُ اللَّهَ مَحَامِدَ مَا حَمِدَهُ أَحَدٌ قَبْلِي مِثْلَهَا ، وَلَا يَحْمَدُهُ أَحَدٌ بَعْدِي ، ثُمَّ أُخْرِجُ مِنْهَا مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا ، فَيَقُومُ إِلَيَّ أُنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَيَنْتَسِبُونَ لِي ، فَأَعْرِفُ نَسَبَهُمْ وَلَا أَعْرِفُ وُجُوهَهُمْ ، وَأَتْرُكُهُمْ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ ، وَفِيهِ لِينٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جہنم کے دروازے کے پاس آؤں گا اور اس کے دروازے کو کھٹکھٹاؤں گا ، وہ میرے لئے کھول دیا جائے گا ، میں اُس میں داخل ہو جاؤں گا ، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح سے حمد ، مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی ہو گی ، اور نہ ہی میرے بعد کوئی اس طرح حمد بیان کرے گا ، پھر میں وہاں سے ہر اس شخص کو نکالوں گا جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا ہو گا ، پھر قریش کے کچھ لوگ میرے سامنے کھڑے ہوں گے ، وہ میرے سامنے اپنا نسب بیان کریں گے ، میں ان کے نسب کو پہچان لوں گا ، لیکن میں ان کے چہروں کو نہیں پہچانوں گا اور میں انہیں جہنم میں چھوڑ دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے اس کو نقل کیا ہے جس میں کمزوری پائی جاتی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18528
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18529
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَفْتَقِدُ أَهْلُ الْجَنَّةِ نَاسًا كَانُوا يَعْرِفُونَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، فَيَأْتُونَ الْأَنْبِيَاءَ فَيَذْكُرُونَهُمْ فَيَشْفَعُونَ فِيهِمْ فَيُشَفَّعُونَ ، يُقَالُ لَهُمُ : الطُّلَقَاءُ ، وَكُلُّهُمْ طُلَقَاءُ يُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت کچھ ایسے افراد کو غیر موجود پائیں گے جن سے وہ دنیا میں واقف تھے ، وہ انبیاء کے پاس آئیں گے اور ان لوگوں کا ذکر کریں گے اور ان لوگوں کے بارے میں شفاعت کریں گے تو اُن کی شفاعت قبول کی جائے گی اور ان لوگوں کو ” طلقاء “ کہا: جائے گا وہ سب ” طلقاء “ ہوں گے ، اُن پر آب حیات ڈالا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 18530
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ قَوْمٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ عُذِّبُوا فِي النَّارِ بِرَحْمَةِ اللَّهِ ، وَشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں مسلمانوں کے کچھ لوگ داخل ہوں گے ، جنہیں جہنم میں عذاب دیا جا رہا ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی وجہ سے ( جنت میں داخل ہوں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10509)»
حدیث نمبر: 18531
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ، فَيُسَمَّوْنَ فِي الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ ، فَيَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُحَوِّلَ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمَ ، فَيَمْحُوهُ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَإِذَا خَرَجُوا مِنَ النَّارِ نَبَتُوا كَمَا يَنْبُتُ الرِّيشُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کچھ لوگ جہنم سے نکلیں گے ، جنت میں ان کا نام ” جہنمی “ رکھا جائے گا ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے کہ ان کا یہ نام تبدیل کر دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ ان کا یہ نام محو کر دے گا ، جب وہ لوگ جہنم سے نکلیں گے تو وہ یوں اُگیں گے جس طرح پر اگتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ہے اور وہ ضعیف ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18531
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (425/20)»
حدیث نمبر: 18532
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يُعَذَّبُونَ بِذُنُوبِهِمْ ، فَيَكُونُونَ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا ، ثُمَّ يُعَيِّرُهُمْ أَهْلُ الشِّرْكِ فَيَقُولُونَ : مَا نَرَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ تَصْدِيقِكُمْ ، وَإِيمَانِكُمْ نَفَعَكُمْ ؟ فَلَا يَبْقَى مُوَحِّدٌ إِلَّا أَخْرَجَهُ اللَّهُ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ " . قُلْتُ : لِجَابِرٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَسَّامٍ الصَّيْرَفِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہ جہنم میں رہیں گے ، پھر مشرکین انہیں عار دلاتے ہوئے یہ کہیں گے : تم لوگوں نے جو تصدیق کی تھی اور جو تمہارا ایمان تھا ، ہمارا نہیں خیال کہ اس نے تمہیں کوئی فائدہ دیا ہے ؟ تو اس وقت ہر موحد کو اللہ تعالیٰ ( جہنم سے ) نکال دے گا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ احادیث ” صحیح “ میں مذکور ہیں ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسام صیرفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18532
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 18533
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَدْخُلُونَ النَّارَ بِذُنُوبِهِمْ ، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُ اللَّاتِ وَالْعُزَّى : مَا أَغْنَى عَنْكُمْ قَوْلُكُمْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنْتُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ ؟ فَيَغْضَبُ اللَّهُ لَهُمْ ، فَيُخْرِجُهُمْ ( فَيَقْذِفُ بِهِمْ ) فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ ، فَيَبْرَءُونَ مِنْ حَرْقِهِمْ كَمَا يَبْرَأُ الْقَمَرُ مِنْ كُسُوفِهِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيِّينَ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَنَسُ ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ أَنَسٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لا الہ الا اللہ کے ماننے والوں میں سے کچھ لوگ جہنم میں اپنے گناہوں کی وجہ سے داخل ہوں گے ، تو لات اور عزیٰ کے ماننے والے اُن سے یہ کہیں گے : تمہارا لا الہ الا اللہ کہنا ، تمہارے کس کام آیا ؟ جبکہ تم بھی ہمارے ساتھ جہنم میں ہو ، اللہ تعالیٰ ان ( کافر ) لوگوں پر غضبناک ہو گا اور ان ( یعنی گناہ گار اہل ایمان ) کو ( جہنم سے ) نکال دے گا اور انہیں نہر حیات میں ڈالے گا ، تو وہ جلنے کے اثر کے حوالے سے یوں ٹھیک ہو جائیں گے جس طرح چاند کا گرہن ختم ہوتا ہے ، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، تو اہل جنت انہیں ” جہنمی “ کا نام دیں گے ۔ “ ایک شخص نے کہا: اے سیدنا انس ! کیا آپ نے خود یہ ( حدیث ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جانتے بوجھتے ہوئے میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے ۔ “ ( پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے ( یعنی وہ حدیث جو اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18534
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي ، لَا أَجْعَلُ مَنْ آمَنَ بِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ أَوْ لَيْلٍ كَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي " . قُلْتُ : لَهُ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ فِي الشَّفَاعَةِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ طَرِيفُ بْنُ شِهَابٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو جہنم سے نکال دو ! جس کے دل میں جو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر وہ فرمائے گا : اس کو جہنم سے نکال دو جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر وہ فرمائے گا : مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم ہے ، جس شخص نے دن یا رات کی گھڑی بھر کے لیے مجھ پر ایمان رکھا ہو ، میں اسے اس شخص کی مانند نہیں بناؤں گا ، جس نے مجھ پر ایمان نہیں رکھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں شفاعت کے بارے میں ایک حدیث منقول ہے جو اس سے مختصر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طریف بن شہاب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جِدّاً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (875)»
حدیث نمبر: 18535
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا تَزَالُ الشَّفَاعَةُ بِالنَّاسِ وَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ حَتَّى إِنَّ إِبْلِيسَ الْأَبَالِسِ لَيَتَطَاوَلُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ تُصِيبَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” لوگوں کو شفاعت نصیب ہوتی رہے گی اور وہ جہنم سے نکلتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ابلیس بھی اونچا ہو گا تاکہ اُسے بھی وہ ( یعنی شفاعت ) نصیب ہو جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے جو بصری کا شاگرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10513)»
حدیث نمبر: 18536
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُوضَعُ لِلْأَنْبِيَاءِ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَجْلِسُونَ عَلَيْهَا ، وَيَبْقَى مِنْبَرِي لَا أَجْلِسُ عَلَيْهِ ، أَوْ لَا أَقْعُدُ عَلَيْهِ قَائِمًا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّي [ مُنْتَصِبًا بِأُمَّتِي ] مَخَافَةَ أَنْ يَبْعَثَ بِي إِلَى الْجَنَّةِ وَتَبْقَى أُمَّتِي بَعْدِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ، أُمَّتِي ! أُمَّتِي ! فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا مُحَمَّدُ، مَا تُرِيدُ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ ؟ فَأَقُولُ : يَا رَبِّ، تُعَجِّلُ حِسَابَهُمْ ، فَيُدْعَى بِهِمْ فَيُحَاسَبُونَ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي ، فَمَا أَزَالُ أَشْفَعُ حَتَّى أُعْطَى صِكَاكًا بِرِجَالٍ قَدْ بُعِثَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ ، حَتَّى إِنَّ مَالِكًا خَازِنَ النَّارَ لَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا تَرَكْتَ لِغَضَبِ رَبِّكَ فِي أُمَّتِكَ مِنْ نِقْمَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انبیاء کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے ، جن پر وہ بیٹھیں گے ، صرف میرا منبر باقی رہے گا ، میں اس پر نہیں بیٹھوں گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں اپنی امت کی خاطر اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا رہوں گا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں مجھے جنت میں نہ بھجوا دیا جائے اور میرے بعد میری امت باقی رہ جائے ، میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں عرض کروں گا : اے میرے پروردگار ! تو ان کے حساب میں عدل کر ! پھر ان کو بلایا جائے گا اور ان کا حساب لیا جائے گا ، ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، ان میں سے کوئی میری شفاعت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، میں مسلسل شفاعت کرتا رہوں گا ، مجھے ایسے لوگ دیے جاتے رہیں گے جنہیں جہنم کی طرف بھجوایا گیا تھا ، یہاں تک کہ جہنم کا داروغہ ” مالک “ یہ کہے گا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ نے اپنی امت کے بارے میں اپنے پروردگار کے غضب کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہنے دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10771)»
حدیث نمبر: 18537
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - يَرْفَعُهُ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مُنْتِنِينَ قَدْ مَحَشَتْهُمُ النَّارُ بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ أَوِ الْجَهَنَّمِيُّونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، قُلْتُ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ نَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ( یعنی جہنم سے ) نکالے گا جو بدبودار ہو چکے ہوں گے اور آگ نے انہیں راکھ کر دیا ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں ” جہنمی “ کا نام دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی رحمت سے متعلق باب میں اس نوعیت کی کچھ احادیث آگے آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (391/5)»