مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات

بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان

حدیث نمبر: 18507
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ، فَجَلَسَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ مَكَثَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى بَيْتِهِ ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ : أَلَا تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَأْنُهُ ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ ! فَسَأَلَهُ فَقَالَ : " نَعَمْ . عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَأَمْرِ الْآخِرَةِ ، فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ ، فَقَطَعَ النَّاسُ بِذَلِكَ حَتَّى انْطَلَقُوا إِلَى آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ ، قَالُوا : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ ، وَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا ، قَالَ : لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ ، انْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ ، إِلَى نُوحٍ ، إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ " . ¤ قَالَ : " فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُونَ : اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا ، فَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ ، وَلَمْ تَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ، فَيَقُولُ : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، انْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اتَّخَذَهُ خَلِيلًا . فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، انْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا ، فَيَقُولُ مُوسَى : - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّهُ كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى . فَيَقُولُ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ قَالَ : " فَيَنْطَلِقُونَ فَيَأْتِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَبَّهُ ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ ، وَيَقُولُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ " . قَالَ : " فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ " . ¤ قَالَ : " فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا ، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِضَبْعَيْهِ ، فَيَفْتَحُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ مَا لَا يَفْتَحُهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ ، يَقُولُ : رَبِّ خَلَقْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ ، ثُمَّ يُقَالُ : ادْعُوا الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ ، لِمَنْ أَرَادُوا " . ¤ قَالَ : " فَإِذَا فَعَلَ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا " . قَالَ : " فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : انْظُرُوا فِي النَّارِ هَلْ تَلْقَوْنَ أَحَدًا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ ؟ " . ¤ قَالَ : " فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُونَ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا . غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ [ وَالشِّرَاءِ ] ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي . ¤ ثُمَّ يُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا . غَيْرَ أَنِّي [ قَدْ ] أَمَرْتُ وَلَدِي إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ ، ثُمَّ اطْحَنُونِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ فَاذْهَبُوا بِي فِي الْبَحْرِ فَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ ، فَوَاللَّهِ لَا يَقْدِرُ عَلَيَّ رَبُّ الْعَالَمِينَ أَبَدًا ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِنْ مَخَافَتِكَ ! " . قَالَ : " فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : انْظُرْ إِلَى مُلْكِ أَعْظَمِ مَلِكٍ ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ " . قَالَ : " فَيَقُولُ : لِمَ تَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ ! قَالَ : وَذَاكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی ، پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے پھر آپ اپنی جگہ پر رہے ، یہاں تک کہ آپ نے ظہر ، عصر اور مغرب کی نماز پڑھائی ، اس دوران آپ نے کوئی گفتگو نہیں کی ، یہاں تک کہ آپ نے عشاء کی نماز پڑھا دی ، پھر آپ اُٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے ، لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج جو طرز عمل اختیار کیا ہے وہ آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ، سیدنا ابوبکر صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! دنیا کے معاملے سے متعلق اور آخرت کے معاملے سے متعلق جو کچھ بھی ہو گا ، وہ میرے سامنے پیش کیا گیا ، سب پہلے والے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا ، لوگ اس صورتحال سے پریشان ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، پسینہ اتنا زیادہ ہو گا کہ انہیں لگام ڈال رہا ہو گا ، وہ کہیں گے : اے سیدنا آدم ( علیہ السلام ) ! آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے : مجھے بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے جس کا سامنا تم لوگ کر رہے ہو ، تم اپنے دوسرے جدامجد سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ! ” بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم ، نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو تمام جہانوں میں سے منتخب کیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے : آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا اس نے آپ کی دعا کو مستجاب کیا اور اس نے روئے زمین پر کافروں کو بستا ہوا نہیں رہنے دیا ، تو سیدنا نوح علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں خلیل بنایا ہے ، لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ یہ کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کلام کیا ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ پیدائشی اندھے ، برص ( یعنی پھلبہری ) کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم اولاد آدم کے سردار کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ پہلے فرد ہیں ، جن کے لیے قیامت کے دن زمین کو شق کیا گیا ، تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ! وہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ جائیں گے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے پاس آئیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پروردگار یہ فرمائے گا : اُسے اجازت دو ! اور اُسے جنت کی خوشخبری دو ! ۔ ( شاید یہاں عربی عبارت میں کوئی کمی ہے ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے وہ سجدے میں چلے جائیں گے جو ایک ہفتے تک ہو گا ، پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ! تم کہو تمہیں سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے ، جب آپ اپنے پروردگار کی طرف دیکھیں گے تو پھر سجدے میں چلے جائیں گے جو مزید ایک ہفتے کے لیے ہو گا ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم کہو تمہیں سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ پھر سجدے میں جانے لگیں گئے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام بازوؤں سے آپ کو پکڑ لیں گے ، اس وقت اللہ تعالیٰ دعا کے ایسے کلمات آپ کے لئے کشادہ کرے گا کہ وہ کلمات اس نے کسی بشر کے لئے کبھی نہیں کشادہ نہیں کیے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اولاد آدم کا سردار بنایا ہے اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور مجھے وہ پہلا فرد بنایا ہے جس کے لیے قیامت کے دن زمین کو شق کیا گیا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہاں تک کہ اس حوض پر میرے پاس لوگ آئیں گے ، جو اس سے زیادہ بڑا ہے ، جتنا صنعاء اور ایلہ کے درمیان فاصلہ ہے ، پھر یہ کہا: جائے گا : صدیقین کو بلاؤ ، وہ شفاعت کریں گے ، پھر یہ کہا: جائے گا : انبیاء کو بلاؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ایک نبی آئے گا ، اس کے ساتھ کچھ لوگ ہوں گے ، کوئی نبی آئے گا اس کے ساتھ پانچ یا چھ افراد ہوں گے ، کوئی نبی آئے گا ، جس کے ساتھ کوئی نہیں ہو گا ، پھر یہ کہا: جائے گا : شہداء کو بلاؤ ! تو وہ جس کے بارے میں چاہیں گے اس کی شفاعت کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب شہداء ایسا کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں ، تم میری جنت میں ہر اُس شخص کو داخل کر دو جو کسی کو میرا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم جہنم کا جائزہ لو ! کیا تمہیں کوئی ایسا شخص ملتا ہے جس نے کبھی کوئی بھلائی کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ ( یعنی فرشتے ) جہنم میں ایک شخص کو پائیں گے ، وہ دریافت کریں گے : کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی ہے ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! البتہ میں خرید و فروخت کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرتا تھا ، اللہ تعالٰی فرمائے گا : میرے بندے کے ساتھ نرمی کرو ! جس طرح یہ میرے بندوں کے ساتھ نرمی کیا کرتا تھا ۔ پھر وہ جہنم سے ایک شخص کو باہر نکالیں گے اور اس سے دریافت کریں گے : کیا تم نے بھی کوئی بھلائی کی ہے ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! البتہ یہ ہے کہ میں نے اپنی اولاد کو یہ حکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھے آگ کے ذریعے جلا دینا ، پھر تم مجھے پیس دینا یہاں تک کہ جب میں سرمے کی طرح ( راکھ ) ہو جاؤں تو تم مجھے سمندر میں لے جانا اور مجھے ہوا میں اُڑا دینا ، اللہ کی قسم ! تمام جہانوں کا پروردگار مجھے کبھی مشقت کا شکار نہیں کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ جواب دے گا : تیرے خوف کی وجہ سے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم اس کا جائزہ لو ، جو سب سے بڑی مملکت ہے ، تمہیں اس کی مانند اور اس جیسا دس گنا مزید ملتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص کہے گا : تو میرا مذاق کیوں اڑا رہا ہے ؟ جبکہ تو بادشاہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بات پر میں چاشت کے وقت ہنسا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18507
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3465) اخرجه ابو يعلى فى المسند (56) اخرجه احمد فى المسند (15)»