حدیث نمبر: 18504
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَلَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ، بِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ ، آدَمُ وَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي وَلَا فَخْرَ ، وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ ، وَيَشْتَدُّ حَتَّى يَقُولَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَقْضِي بَيْنَنَا ، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى آدَمَ فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ آدَمُ : لَسْتُ هُنَاكَ ، أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا . فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَيَقْضِي بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي دَعَوْتُ دَعْوَةً أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ . فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيَقُولُونَ : يَا إِبْرَاهِيمُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ " - قَوْلُهُ : إِنِّي سَقِيمٌ ، وَقَوْلُهُ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ، " وَاللَّهِ مَا أَرَادَ بِهِنَّ إِلَّا عِزَّةً لِدِينِ اللَّهِ " . - " وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَهُ . فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ . فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي اتَّخَذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُومٍ ، أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِيهِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ ؟ فَيَقُولُونَ : لَا . فَيَقُولُ : إِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَقَدْ حَضَرَ ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ . فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَأَقُولُ : أَنَا لَهَا حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهَ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ : أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ ؟ أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ ؟ فَيَجِيئُونَ ، فَنَحْنُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، آخِرُ مَنْ يُبْعَثُ ، وَآخِرُ مَنْ يُحَاسَبُ ، فَتُفْرِجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا ، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ ، فَتَقُولُ الْأُمَمُ : كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلَّهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَزَادَ أَحْمَدُ : " فَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ فَأَقْرَعُ [ الْبَابَ ] ، فَيُقَالُ : مَنْ [ أَنْتَ ] ؟ فَأَقُولُ : [ أَنَا ] مُحَمَّدٌ [ فَيُفْتَحُ لِي ] ، فَآتِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ - شَكَّ حَمَّادٌ - فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ قَبْلِي ، وَلَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، [ فَأَرْفَعُ رَأْسِي ] فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ! أُمَّتِي ! فَيَقُولُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ كَذَا وَكَذَا - لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ - ثُمَّ أَعُودُ فَأَسْجُدُ ، فَأَقُولُ مَا قُلْتُ ، فَيُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ [ وَسَلْ تُعْطَهْ ] ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ! أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ كَذَا وَكَذَا دُونَ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ! أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ كَذَا وَكَذَا دُونَ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بصرہ کے منبر پر خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کے لئے ایک مخصوص دعا تھی جسے اس نے دنیا میں مخصوص نتیجے کے حصول کے لیے استعمال کر لیا اور میں نے اپنی مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھ لیا ہے ، میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ( قیامت کے دن ) سب سے پہلے میرے لئے زمین کو شق کیا جائے گا اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، میرے ہاتھ میں ” لواء الحمد “ ہو گا ، سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ۔ قیامت کا دن لوگوں کے لئے طویل اور مشکل کا باعث ہو گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہیں گے : تم ہمارے ساتھ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس چلو جو بنی نوع انسان کے جد امجد ہیں ، تاکہ وہ ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کریں اور وہ پروردگار ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، وہ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے : اے سیدنا آدم ! آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے ، میں یہ نہیں کر سکتا ، کیونکہ میری خطا کی وجہ سے مجھے جنت سے نکالا گیا تھا ، تو آج مجھے صرف اپنی ذات کے حوالے سے پریشانی ہے ، تم لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ، لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے سیدنا نوح ( علیہ السلام ) ! آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، تو سیدنا نوح علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے ایک دعا کی تھی ، جس کی وجہ سے تمام اہل زمین ڈوب گئے ، تو آج مجھے صرف اپنی ذات کی فکر ہے ، تم لوگ سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے پاس جاؤ ! وہ لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے سیدنا ابراہیم ( علیہ السلام ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، میں نے اسلام میں تین مرتبہ ذومعنی باتیں کی تھیں ( شاید راوی کہتے ہیں : ایک بات تو ان کا یہ کہنا ہے کہ میں بیمار ہوں ، ایک بات ان کا یہ کہنا ہے : بلکہ ان میں سے بڑے نے یہ کیا ہے اور ایک وہ بات جو انہوں نے بادشاہ سے کہی تھی ، جب وہ اس کے علاقے سے گزرے تھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ کی قسم ! انہوں نے ان ذومعنی باتوں کے ذریعے مراد صرف اللہ کے دین کا غلبہ لیا تھا ( سیدنا ابراہیم علیہ السلام کہیں گے : ) آج مجھے صرف اپنی فکر ہے ، تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا اور ان کے ساتھ کلام کیا ، لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے سیدنا موسیٰ ( علیہ السلام ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ، تو آج مجھے صرف اپنی فکر ہے ، تم لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، وہ لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، مجھے اللہ کو چھوڑ کر معبود بنا لیا گیا تھا ، تو آج مجھے صرف اپنی فکر ہے ، اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ اگر کوئی ایسا سامان ہو جو مہر بند ہو اور وہ کسی ایسے برتن میں ہو جس پر مہر لگائی گئی ہو تو کیا اس سامان کو نکالا جا سکتا ہے ، جب تک مہر کو توڑا نہ جائے ؟ لوگ جواب دیں گے : جی نہیں ! تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خاتم النبیین ہیں ، وہ موجود ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، تو میں یہ کہوں گا : میں اس کام کے لیے ہوں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اور جس سے راضی ہو گا ، اُسے اجازت دے گا ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : سیدنا أحمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت کہاں ہے ؟ سیدنا أحمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت کہاں ہیں ؟ تو وہ لوگ آئیں گے ، ہم پہلے والے ہیں اور آخر والے ہیں ، ہم آخر میں مبعوث ہونے والے ہیں اور وہ لوگ ہیں جن سے آخر میں حساب لیا جائے گا ، تو دیگر امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم چلتے ہوئے جائیں گے ، طہارت کے آثار کی وجہ سے ہماری پیشانیاں چمک رہی ہوں گی ، دوسری امتیں یہ کہیں گی : یہ امت ( تعداد کے حوالے سے ) اس کے قریب ہے کہ جتنی دیگر تمام انبیاء کی امتیں ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ہم جنت کے دروازے پر آئیں گے ، میں دروازے کی کنڈی پکڑوں گا اور دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ، تو کہا: جائے گا : آپ کون ہیں ؟ تو میں جواب دوں گا : میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں ، تو میرے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا ، میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آؤں گا جو اپنی کرسی پر ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ اپنے پلنگ پر ہو گا ، میں اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا اور ایسے کلمات کے ہمراہ اس کی حمد بیان کروں گا کہ اس جیسے کلمات کے ذریعے مجھ سے پہلے کسی نے اس کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور ان کلمات کے ذریعے کوئی میرے بعد اس کی حمد بیان نہیں کرے گا ، پھر یہ کہا: جائے گا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! تم اپنا سر اٹھاؤ ، تو مانگو ، تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور میں یہ کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اس شخص کو نکال دو جس کے دل میں یہ یہ ہو ۔ ( یہاں روایت کے الفاظ حماد نامی راوی کو یاد نہیں رہے ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں واپس آؤں گا اور سجدے میں چلا جاؤں گا ، پھر میں کچھ کلمات پڑھوں گا تو یہ کہا: جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم کہو سنا جائے گا ، تم مانگو تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں یہ کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو یہ کہا: جائے گا : تم اس کو نکال دو ، جس کے دل میں یہ اور یہ ہو ، یہ مقدار پہلے والی سے کم ہو گی ، پھر میں دوبارہ آؤں گا اور سجدے میں چلا جاؤں گا اس کی مانند کلمات پڑھوں گا تو یہ کہا: جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ اور تم کہو ، تمہاری بات کو سنا جائے گا ، تم مانگو تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول ہو گی ، تو میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو یہ کہا: جائے گا : تم اُس کو نکال لو ، جس کے دل میں یہ اور یہ ہو ، یہ مقدار پہلی والی سے بھی کم ہو گی ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2328) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12777) اخرجه احمد فى المسند (2546)»