مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات

بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان

حدیث نمبر: 18505
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ فَيُفْتَحُ لِي بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ، وہ میرے لئے کھول دیا جائے گا ، وہ سونے سے بنا ہوا دروازہ ہو گا ، جس کی کنڈی چاندی کی بنی ہوئی ہو گی ، میرے سامنے سب سے بڑا نور آئے گا تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ کی ثناء کے بارے میں ایسے کلمات مجھے القاء کئے جائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کو القاء نہیں کیے گئے ، پھر مجھ سے کہا: جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم مانگو ، وہ دیا جائے گا ، تم کہو ، سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں یہ کہوں گا : میری امت ، تو یہ کہا: جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں ، جو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر میں دوسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر مجھے اس کی مانند کلمات القاء کیے جائیں گے ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی اور میں یہ کہوں گا : میری امت ، مجھ سے کہا: جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر میں تیسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی ، پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور یہ کہوں گا : میری امت ، تو مجھ سے کہا: جائے گا : تمہیں ہر وہ فرد ملتا ہے جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں اور دوسری کتابوں میں کچھ احادیث مذکور ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4130)»