حدیث نمبر: 18503
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : تُعْطَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَرَّ عَشْرِ سِنِينَ ، ثُمَّ تُدْنَى مِنْ جَمَاجِمِ النَّاسِ . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قَالَ : فَيَأْتُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُونَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنْتَ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ بِكَ ، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَقَدْ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَيَقُولُ : " أَنَا صَاحِبُكُمْ " . فَيَخْرُجُ يَحُوشُ النَّاسَ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَأْخُذُ بِحَلْقَةٍ فِي الْبَابِ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْرَعُ الْبَابَ ، فَيَقُولُ : مَنْ هَذَا ؟ فَيَقُولُ : " مُحَمَّدٌ " . فَيُفْتَحُ لَهُ حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَسْجُدُ ، فَيُنَادَى : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن سورج کو دس سال کی گرمی دے دی جائے گی ، پھر وہ لوگوں کے سروں کے قریب آ جائے گا ، راوی کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر وہ بیان کرتے ہیں : ” پھر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے اللہ کے نبی ! آپ وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح عطا کی ، آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ، ہم جس صورتحال کا شکار ہیں ، آپ اُسے ملاحظہ کر رہے ہیں ، تو آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے : تمہارا متعلقہ فرد ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوں گے ، یہاں تک کہ آپ جنت کے دروازے کے پاس آ جائیں گے ، آپ دروازے کی کنڈی کو پکڑیں گے ، جو سونے کی بنی ہوئی ہو گی اور اس کے ذریعے دروازہ کھٹکھٹائیں گے ( اندر سے دربان فرشتہ ) دریافت کرے گا : کون ہے ؟ آپ فرمائیں گے : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو آپ کے لئے قیامت کے دن اس کو کھول دیا جائے گا ، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے اور سجدے میں چلے جائیں گے تو پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تو مانگو تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول ہو گی ( سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ) یہ ” مقام محمود “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6117)»