حدیث نمبر: 18502
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مِزْعَةُ لَحْمٍ " . وَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْنُو حَتَّى يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ اسْتَغَاثُوا بِآدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَاكَ ، ثُمَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ كَذَلِكَ ، ثُمَّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَشْفَعُ فَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الْخَلْقِ ، فَيَمْشِي حَتَّى يَأْخُذَ بِحَلْقَةِ الْجَنَّةِ ، فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اللَّهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ كُلُّهُمْ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ مِنْ قَوْلِهِ : " فَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الْخَلْقِ إِلَى آخِرِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُطَّلِبِ بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ ، وَكِلَاهُمَا قَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص لوگوں سے مسلسل مانگتا رہے گا یہاں تک کہ جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہیں ہو گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن سورج قریب آ جائے گا ، یہاں تک کہ پسینہ نصف کان تک پہنچ رہا ہو گا ، لوگ اسی حالت میں ہوں گے ، اسی دوران وہ سیدنا آدم علیہ السلام سے مدد چاہیں گے تو وہ کہیں گے : میں اس کا متعلقہ فرد نہیں ہوں ، پھر وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ( سے مدد چاہیں گے ) تو وہ بھی یہی کہیں گے ، پھر وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( سے مدد چاہیں گے ) تو وہ شفاعت کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا ، پھر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ جنت کے حلقے ( یعنی دروازے کی کنڈی ) کو پکڑ لیں گے ، اس دن اللہ تعالیٰ انہیں ” مقام محمود “ پر فائز کرے گا جس کے حوالے سے تمام اہل محشر ان کی تعریف کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے جو یہ الفاظ ہیں : ” تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مطلب بن شعیب کے حوالے سے عبداللہ بن صالح سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن