مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّفَاعَةِ . باب: شفاعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : فَقَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابُهُ ، وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا تَرَكُوهُ وَسَطَهُمْ ، فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى اخْتَارَ لَهُ أَصْحَابًا غَيْرَهُمْ ، فَإِذَا هُمْ بِخَيَالِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرُوا حِينَ رَأَوْهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَشْفَقْنَا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - اخْتَارَ لَكَ أَصْحَابًا غَيْرَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا . بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَيْقَظَنِي فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا رَسُولًا إِلَّا وَقَدْ سَأَلَنِي مَسْأَلَةً أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا ، فَسَلْ يَا مُحَمَّدُ تُعْطَ . فَقُلْتُ : مَسْأَلَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الشَّفَاعَةُ ؟ قَالَ : " أَقُولُ : يَا رَبِّ ، شَفَاعَتِي الَّتِي اخْتَبَأْتُ عِنْدَكَ ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : نَعَمْ . فَيُخْرِجُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بَقِيَّةَ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا ، وہ لوگ جب پڑاؤ کیا کرتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے درمیان میں ٹھہراتے تھے ، وہ لوگ پریشان ہو گئے ، انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے علاوہ کوئی اور اصحاب منتخب کر لیے ہیں ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے سے تشریف لے آئے ، ان لوگوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے تکبیر کہی ، ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم پریشان ہو گئے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ہمارے علاوہ کوئی اور اصحاب منتخب نہ کر لیے ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم لوگ ہی دنیا اور آخرت میں میرے اصحاب ہو ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بیدار کیا اور ارشاد فرمایا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں نے جس نبی اور رسول کو مبعوث کیا ، تو اس نے مجھ سے کوئی ایک مخصوص سوال کیا ، تو میں نے وہ چیز اسے دیدی ، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! تم بھی سوال کرو تمہیں بھی دیا جائے گا ، میں نے عرض کی : میرا سوال قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے ہے ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ شفاعت کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے کہا: اے میرے پروردگار ! میری شفاعت وہ ہے جو میں تیرے پاس سنبھال کے رکھوا رہا ہوں ، تو پروردگار نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تو پروردگار میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال دے گا اور انہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ان میں سے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔