مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّفَاعَةِ . باب: شفاعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي ، فَاجْتَمَعَ [ وَرَاءَهُ ] رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَحْرُسُونَهُ ، حَتَّى إِذَا صَلَّى [ وَ ] انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ : " لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي ، أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ عَامَّةً وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَى قَوْمِهِ وَنُصِرْتُ عَلَى الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ وَلَوْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنْهُ رُعْبًا وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ آكُلُهَا وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ أَكْلَهَا ، كَانُوا يُحْرِقُونَهَا ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا ، أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ ذَلِكَ ، إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ ، وَالْخَامِسَةُ هِيَ مَا هِيَ ، قِيلَ لِي : سَلْ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ ، فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِيهِ ، فَهِيَ لَكُمْ ، وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ کے پیچھے آپ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اکٹھے ہو گئے ، وہ آپ کی حفاظت کرنے لگے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ان حضرات کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ان سے ارشاد فرمایا : ” آج رات مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی ہیں ، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف عمومی طور پر مبعوث کیا گیا ہے ، مجھ سے پہلے کے انبیاء کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور دشمن کے خلاف رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے خواہ میرے اور اس ( یعنی دشمن ) کے درمیان ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ ہو اور میرے لئے مال غنیمت کو کھانا حلال قرار دیا گیا ہے ، مجھ سے پہلے کے لوگ اس کو کھانے کو بڑا ( گناہ ) سمجھتے تھے ، وہ لوگ اسے جلا دیا کرتے تھے ، میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ، جہاں بھی مجھے نماز کا وقت آ جائے گا ، میں تیمم کر کے نماز ادا کر سکتا ہوں ، مجھ سے پہلے کے لوگ اسے بڑا ( گناہ ) سمجھتے تھے ، وہ صرف اپنی عبادت گاہوں میں ہی نماز ادا کر سکتے تھے ، پانچویں چیز ، اس کے تو کیا کہنے ؟ مجھ سے کہا: گیا : تم مانگو ! کیونکہ ہر نبی نے سوال کیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو میں نے اپنے سوال کو قیامت کے دن کے لیے مؤخر کر دیا ، تو وہ ( سوال ، شفاعت کی شکل میں ) تم لوگوں کے لیے اور ہر اس شخص کے لیے ہو گا جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔