حدیث نمبر: 18486
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي ، فَاجْتَمَعَ [ وَرَاءَهُ ] رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَحْرُسُونَهُ ، حَتَّى إِذَا صَلَّى [ وَ ] انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ : " لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي ، أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ عَامَّةً وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَى قَوْمِهِ وَنُصِرْتُ عَلَى الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ وَلَوْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنْهُ رُعْبًا وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ آكُلُهَا وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ أَكْلَهَا ، كَانُوا يُحْرِقُونَهَا ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا ، أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ ذَلِكَ ، إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ ، وَالْخَامِسَةُ هِيَ مَا هِيَ ، قِيلَ لِي : سَلْ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ ، فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِيهِ ، فَهِيَ لَكُمْ ، وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ کے پیچھے آپ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اکٹھے ہو گئے ، وہ آپ کی حفاظت کرنے لگے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ان حضرات کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ان سے ارشاد فرمایا : ” آج رات مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی ہیں ، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف عمومی طور پر مبعوث کیا گیا ہے ، مجھ سے پہلے کے انبیاء کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور دشمن کے خلاف رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے خواہ میرے اور اس ( یعنی دشمن ) کے درمیان ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ ہو اور میرے لئے مال غنیمت کو کھانا حلال قرار دیا گیا ہے ، مجھ سے پہلے کے لوگ اس کو کھانے کو بڑا ( گناہ ) سمجھتے تھے ، وہ لوگ اسے جلا دیا کرتے تھے ، میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ، جہاں بھی مجھے نماز کا وقت آ جائے گا ، میں تیمم کر کے نماز ادا کر سکتا ہوں ، مجھ سے پہلے کے لوگ اسے بڑا ( گناہ ) سمجھتے تھے ، وہ صرف اپنی عبادت گاہوں میں ہی نماز ادا کر سکتے تھے ، پانچویں چیز ، اس کے تو کیا کہنے ؟ مجھ سے کہا: گیا : تم مانگو ! کیونکہ ہر نبی نے سوال کیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو میں نے اپنے سوال کو قیامت کے دن کے لیے مؤخر کر دیا ، تو وہ ( سوال ، شفاعت کی شکل میں ) تم لوگوں کے لیے اور ہر اس شخص کے لیے ہو گا جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18487
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : فَقَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابُهُ ، وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا تَرَكُوهُ وَسَطَهُمْ ، فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى اخْتَارَ لَهُ أَصْحَابًا غَيْرَهُمْ ، فَإِذَا هُمْ بِخَيَالِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرُوا حِينَ رَأَوْهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَشْفَقْنَا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - اخْتَارَ لَكَ أَصْحَابًا غَيْرَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا . بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَيْقَظَنِي فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا رَسُولًا إِلَّا وَقَدْ سَأَلَنِي مَسْأَلَةً أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا ، فَسَلْ يَا مُحَمَّدُ تُعْطَ . فَقُلْتُ : مَسْأَلَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الشَّفَاعَةُ ؟ قَالَ : " أَقُولُ : يَا رَبِّ ، شَفَاعَتِي الَّتِي اخْتَبَأْتُ عِنْدَكَ ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : نَعَمْ . فَيُخْرِجُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بَقِيَّةَ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا ، وہ لوگ جب پڑاؤ کیا کرتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے درمیان میں ٹھہراتے تھے ، وہ لوگ پریشان ہو گئے ، انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے علاوہ کوئی اور اصحاب منتخب کر لیے ہیں ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے سے تشریف لے آئے ، ان لوگوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے تکبیر کہی ، ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم پریشان ہو گئے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ہمارے علاوہ کوئی اور اصحاب منتخب نہ کر لیے ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم لوگ ہی دنیا اور آخرت میں میرے اصحاب ہو ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بیدار کیا اور ارشاد فرمایا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں نے جس نبی اور رسول کو مبعوث کیا ، تو اس نے مجھ سے کوئی ایک مخصوص سوال کیا ، تو میں نے وہ چیز اسے دیدی ، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! تم بھی سوال کرو تمہیں بھی دیا جائے گا ، میں نے عرض کی : میرا سوال قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے ہے ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ شفاعت کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے کہا: اے میرے پروردگار ! میری شفاعت وہ ہے جو میں تیرے پاس سنبھال کے رکھوا رہا ہوں ، تو پروردگار نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تو پروردگار میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال دے گا اور انہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ان میں سے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ان میں سے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18488
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَأَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا كَانَ الَّذِي يَلِيهِ الْمُهَاجِرُونَ . قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ . قَالَ : فَتَعَارَرْتُ بِاللَّيْلِ أَنَا وَمُعَاذٌ ، فَنَظَرْنَا فَلَمْ نَرَهُ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا نَطْلُبُهُ إِذْ سَمِعْنَا هَزِيزًا كَهَزِيزِ الْأَرْحَاءِ ، إِذْ أَقْبَلَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ نَظَرَ فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ ! " . فَقَالُوا : انْتَبَهْنَا فَلَمْ نَرَكَ حَيْثُ كُنْتَ ، خَشِينَا أَنْ يَكُونَ أَصَابَكَ شَيْءٌ ; فَجِئْنَا نَطْلُبُكَ . قَالَ : " أَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ أَوْ شَفَاعَةٍ ، فَاخْتَرْتُ لَهُمُ الشَّفَاعَةَ " . فَقُلْنَا : إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ الْإِسْلَامِ ، وَبِحَقِّ الصُّحْبَةِ لَمَا أَدْخَلْتَنَا فِي شَفَاعَتِكَ ، فَدَعَا لَهُمَا . ¤ قَالَ : فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، وَقَالُوا مِثْلَ مَقَالَتِنَا ، وَكَثُرَ النَّاسُ فَقَالَ : " إِنِّي جَاعِلٌ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ( کسی سفر کے دوران ) پڑاؤ کیا کرتے تھے تو مہاجرین آپ کے قریب رہتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : کہ ایک مرتبہ ہم نے پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہم بھی سو گئے ، رات کو کسی وقت میری اور معاذ کی کھلی ، ہم نے دیکھا تو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آئے ، راوی کہتے ہیں : ہم آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ، اسی دوران ہم نے ایک آواز سنی ، جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے ، اسی دوران آپ سامنے سے تشریف لے آئے ، آپ تشریف لا رہے تھے جب آپ نے دیکھا : تو دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا : جب ہم بیدار ہوئے تو ہم نے آپ کو اس جگہ پر نہیں دیکھا ، جہاں آپ تھے ، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو ہم آپ کی تلاش میں آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خواب میں میرے پاس ایک ( فرشتہ یا پیغام ) آیا ، اس نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو وہ ( یعنی پروردگار ) میری نصف امت کو جنت میں داخل کر دے گا ، یا شفاعت ہو ، تو میں نے ان لوگوں کے لیے شفاعت کو اختیار کر لیا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ہم نے عرض کی : ہم اسلام کے حق اور ساتھی ہونے کے حق کے واسطے سے آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت میں شامل کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے لیے دعا کی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ہماری بات کی مانند گزارش کی ، جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ہر اس شخص کی شفاعت کروں گا جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کے مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کے مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18489
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : فَقَالَا : ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنَا فِي شَفَاعَتِكَ ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي " . وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَلَكِنَّ أَبَا الْمَلِيحِ ، وَأَبَا بُرْدَةَ لَمْ يُدْرِكَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت میں شامل کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اور جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ، وہ میری شفاعت میں ہو گا ( یعنی اس کا مستحق ہو گا ) ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن ابونجود کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے لیکن ابوملیح اور ابوبردہ ، ان دونوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے لیکن ابوملیح اور ابوبردہ ، ان دونوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 18490
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَعَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ إِلَى مُنَاخِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ أَطْلُبُهُ ] فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ بَارِزًا ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُ مَا أَطْلُبُ . قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذِ اتَّجَهَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ بِأَرْضِ حَرْبٍ ، وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْكَ ، فَلَوْلَا إِذْ بَدَتْ لَكَ حَاجَةٌ ، قُلْتَ لِبَعْضِ أَصْحَابِكَ فَقَامَ مَعَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي سَمِعْتُ هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَا ، وَحَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ ، وَأَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ ثُلُثُ أُمَّتِي الْجَنَّةِ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ لَهُمْ شَفَاعَتِي ، وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ " . قَالَ : فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، فَدَعَا لَهُمَا ، ثُمَّ إِنَّهُمَا انْتَهَيَا إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَاهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ وَيَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، فَيَدْعُو لَهُمْ ، فَلَمَّا أَضَبَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَكَثُرُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا لِمَنْ مَاتَ ، وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لیا ، سفر کے دوران رات کے وقت ہم نے پڑاؤ کیا رات کے کسی وقت میں ، میں اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخصوص جگہ کی طرف آیا ، میں نے آپ کو تلاش کیا لیکن میں نے آپ کو نہیں پایا ، میں آپ کی تلاش میں کھلی جگہ کی طرف چلا گیا ، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کوئی صاحب موجود تھے وہ بھی اسی تلاش میں تھے جو میں تلاش کر رہا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے سے ہماری طرف آتے ہوئے تشریف لائے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ایک ایسی سرزمین پر ہیں جہاں جنگ چل رہی ہے ، ہم آپ کے حوالے سے اندیشے کا شکار تھے ، ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت پیش آئی تھی ، تو آپ اپنے اصحاب میں سے کسی سے کہہ دیتے تو وہ آپ کے ساتھ اُٹھ کے چلا جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ایک آواز سنی جو چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ میں نے ایک بھنبھناہٹ سنی ، جو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ، میرے پروردگار کی طرف سے ایک پیغام رساں میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ اختیار دیا : کہ یا تو پروردگار میری امت کے ایک تہائی حصے کو جنت میں داخل کر دے گا ، یا شفاعت ہو ، تو میں نے ان لوگوں کے لیے اپنی شفاعت کو اختیار کر لیا کیونکہ مجھے یہ علم ہے کہ یہ ان کے حق میں زیادہ گنجائش والی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے لیے دعا کی ، یہ دونوں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پاس پہنچے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں بتایا ، تو راوی بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے لگے اور یہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا کر دیتے تھے جب لوگ یکے بعد دیگرے آنے لگے اور ان کی آمد بکثرت ہونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( وہ شفاعت ) ہر اس شخص کے لیے ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18491
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقَرِيبٍ مِنَ الصُّبْحِ نَزَلَ فَاجْتَمَعْنَا حَوْلَهُ ، وَكَذَلِكَ كُنَّا نَفْعَلُ ، فَعَقَلَ نَاقَتَهُ ، ثُمَّ جَعَلَ خَدَّهُ عَلَى عِقَالِهَا ، ثُمَّ نَامَ وَتَفَرَّقْنَا ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا لَا أَرَاهُ فِي مَكَانِهِ ، فَذَعَرَنِي ذَلِكَ ، فَقُمْتُ فَإِذَا أَنَا أَسْمَعُ مِثْلَ هَزِيزِ الرَّحَاءِ مِنْ قِبَلِ الْوَادِي ، إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَبْشِرًا ،[ قَالَ ] : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ كُنْتَ ؟ قَالَ : " كَأَنَّهُ رَاعَكَ حِينَ لَمْ تَرَنِي فِي مَكَانِي ؟ " . قُلْتُ : إِي وَاللَّهِ ، قَدْ رَاعَنِي ! قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - آنِفًا ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَغْفِرَ لِنِصْفِ أُمَّتِي ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " . فَنَهَضَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْفَعْ لَنَا ، قَالَ : " شَفَاعَتِي لَكُمْ " . فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ قَالَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ فِي الصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ صبح کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ، ہم آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، ہم اسی طرح کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اوٹنی کو باندھا پھر آپ نے اپنا رخسار اس کی رسی پر رکھا اور آپ سو گئے ، ہم بھی ادھر ادھر بکھر گئے ، میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی مخصوص جگہ پر نہ پایا ، میں اس پر گھبرا گیا ، میں اُٹھا میں نے نشیبی حصے کی طرف سے چکی چلنے کی سی آواز سنی اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کہاں تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لگتا ہے تم نے مجھے میری جگہ پر نہیں دیکھا تو تم پریشان ہو گئے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں پریشان ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا کہ یا شفاعت ہو ، یا ( پروردگار ) میری نصف امت کی مغفرت کر دے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ “ اسی دوران لوگ بھی اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہماری بھی شفاعت کیجئے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت تمہیں بھی نصیب ہو گی ، جب لوگ بکثرت آنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “ طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ،
یہ روایت انہوں نے معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت انہوں نے معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18492
وَعَنْ مُصْعَبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : انْطَلَقَ غُلَامٌ مِنَّا فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ سُؤَالًا ، قَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " . قَالَ : أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَنِي مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : " مَنْ أَمَرَكَ هَذَا ؟ " أَوْ " مَنْ عَلَّمَكَ هَذَا ؟ " أَوْ " مَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا ؟ " . قَالَ : مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ إِلَّا نَفْسِي . قَالَ : " فَإِنَّكَ مِمَّنْ أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " [ فَذَهَبَ الْغُلَامُ جَذْلَانَ يُخْبِرُ أَهْلِهِ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلَامَ " فَرَدُّوهُ كَئِيبًا مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ فِيهِ شَيْءٌ ، قَالَ : " أَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السِّجُودِ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مصعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمارا ایک لڑکا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیا ؟ اس نے کہا: میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے بھی ان افراد میں شامل کریں ، جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں اس کا حکم کس نے دیا ہے ؟ یا تمہیں اس کی تعلیم کس نے دی ہے ؟ یا اس کے بارے میں تمہاری رہنمائی کس نے کی ہے ؟ ( یعنی یہ شک راوی کو ہے ) اس نے کہا: مجھے اس کے بارے میں کسی نے نہیں کہا: ، یہ میرا اپنا خیال ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تم ان افراد میں سے ایک ہو ، جن کی میں قیامت کے دن شفاعت کروں گا ، پھر وہ لڑکا چلا گیا تاکہ اپنے اہل خانہ کو اس بارے میں بتائے ، جب وہ مڑ کر چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس لڑکے کو میرے پاس لے کے آؤ ! لوگو اسے واپس لے کر آئے ، تو وہ پریشان تھا اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کے بارے میں کوئی نیا حکم نہ آ گیا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم بکثرت سجود ( یعنی بکثرت نوافل ) کے ذریعے اپنی ذات کے بارے میں میری مدد کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18493
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا ، [ فَنَزَلْنَا ] حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرِقَتْ عَيْنَايَ فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ ، فَقُمْتُ فَإِذَا لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ دَابَّةٌ إِلَّا وَاضِعَةً خَدَّهَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَأَرَى وَقْعَ كُلِّ شَيْءٍ فِي نَفْسِي [ لَمَوْضِعُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ ]، فَقُلْتُ : لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَكْلَأُ بِهِ اللَّيْلَةَ حَتَّى أُصْبِحَ . فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى رَحْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي رَحْلِهِ ، فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ مِنَ الْعَسْكَرِ ، فَإِذَا أَنَا بِسَوَادٍ فَتَيَمَّمْتُ ذَلِكَ السَّوَادَ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَقَالَا لِي : مَا الَّذِي أَخْرَجَكَ ؟ فَقُلْتُ : الَّذِي أَخْرَجَكُمَا ، فَإِذَا نَحْنُ بِغَيْطَةٍ مِنَّا غَيْرِ بَعِيدٍ ، فَمَشَيْنَا إِلَى الْغَيْطَةِ فَإِذَا نَحْنُ نَسْمَعُ فِيهَا كَدَوِيِّ النَّحْلِ ، وَتَخْفِيقِ الرِّيَاحِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَاهُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ وَلَا يَسْأَلُنَا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى رَجَعَ إِلَى رَحْلِهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا خَيَّرَنِي رَبِّي آنِفًا ؟ " . قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ ثُلُثَيْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الَّذِي اخْتَرْتَ ؟ قَالَ : " اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " . قُلْنَا جَمِيعًا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، قَالَ : " إِنَّ شَفَاعَتِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، جب رات کا وقت ہوا تو نیند میری آنکھوں سے دور تھی ، مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ، تو میں اٹھ کھڑا ہوا ، لشکر میں موجود ہر جانور نے اپنا رخسار زمین پر رکھا ہوا تھا ، میں نے سوچا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ہوں اور صبح ہونے تک رات بھر آپ کی حفاظت کرتا رہوں گا ، میں نکلا اور مختلف لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پالان کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پالان میں نہیں تھے ، میں وہاں سے نکلا اور مختلف لوگوں کے پالانوں کے درمیان میں سے ہوتا ہوا لشکر سے باہر نکل آیا ، مجھے سامنے کوئی ہیولیٰ نظر آیا ، میں اس کی طرف بڑھا تو وہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے : تم کیوں باہر آئے ہو ؟ میں نے کہا: اسی وجہ سے جس کی وجہ سے آپ دونوں باہر آئے ہیں ، ہمارے سامنے کشادہ میدان تھا ، جسے لوگ قضائے حاجت کے لئے استعمال کرتے تھے ، وہ زیادہ دور نہیں تھا ، ہم اس میدان کی طرف چل پڑے اسی دوران ہم نے وہاں سے آواز سنی جو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ، یوں جیسے ہوا چل رہی ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہاں ابوعبیدہ بن جراح ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور معاذ بن جبل ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور عوف بن مالک ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، ہم نے آپ سے کوئی سوال نہیں کیا ، نہ ہی آپ نے ہم سے کوئی اور سوال کیا ، یہاں تک کہ آپ اپنے پالان کے پاس واپس تشریف لے آئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پروردگار نے مجھے اختیار دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ میری امت کے دو تہائی حصے کو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کر دے ، اس چیز اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا ہے ، ہم نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! تو پھر آپ نے کیا اختیار کیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ ہم سب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اپنی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری شفاعت ہر مسلمان کے لئے ہو گی ۔
حدیث نمبر: 18494
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَوْفٍ أَيْضًا قَالَ : نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا ، فَاسْتَيْقَظْتُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى فِي الْعَسْكَرِ شَيْئًا أَطْوَلَ مِنْ مُؤَخِّرَةِ رَحْلٍ قَدْ لَصِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ وَبَعِيرُهُ بِالْأَرْضِ ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى مَضْجَعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِيهِ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى الْفِرَاشِ فَإِذَا هُوَ بَارِدٌ ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ النَّاسَ وَأَقُولُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ " .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، رات کے وقت میں بیدار ہوا تو مجھے پورے لشکر میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی تھی ، جو پالان کی پچھلی لکڑی سے زیادہ لمبی ہو ، ہر انسان اور اونٹ زمین کے ساتھ لگا ہوا تھا ، میں اُٹھا اور لوگوں کے درمیان میں سے گزرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کی جگہ کے پاس آیا تو آپ وہاں نہیں تھے میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بستر پر رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا ، میں اُٹھا اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھنے لگا ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ وہ میری امت کے نصف حصے کو جنت میں داخل کر دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
حدیث نمبر: 18495
وَفِي رِوَايَةٍ : جَعَلَ مَكَانَ أَبِي عُبَيْدَةَ أَبَا مُوسَى . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام مذکور ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18496
وَعَنْ أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ قَالَ : سَأَلْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ ، فَقَالَ : نَعَمْ . أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ كُتِبَ إِلَيْنَا بِهِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ أَنَسٌ : احْفَظُوا هَذَا فَإِنَّهُ مِنْ كَنْزِ الْحَدِيثِ . قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ نَزَلَ وَعَسْكَرَ النَّاسُ حَوْلَهُ ، وَنَامَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ أَرْبَعَةٌ ، فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ نَامَ ، وَنَامَ الْأَرْبَعَةُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَتَمَةٌ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمْ يَجِدُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ رَاحِلَتِهِ ، فَذَهَبُوا يَلْتَمِسُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقُوهُ مُقْبِلًا ، فَقَالُوا : جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاكَ ! أَيْنَ كُنْتَ ، فَإِنَّا قَدْ فَزِعْنَا لَكَ إِذْ لَمْ نَرَكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُنْتُ نَائِمًا حَيْثُ رَأَيْتُمْ ، فَسَمِعْتُ فِي نَوْمِي دَوِيًّا كَدَوِيِّ الرَّحَا - أَوْ هَزِيزِ الرَّحَا - فَفَزِعْتُ فِي مَنَامِي ، فَوَثَبْتُ فَمَضَيْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ السَّاعَةَ لِأُخَيِّرَكَ : إِمَّا أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِكَ الْجَنَّةَ ، وَإِمَّا الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي " . فَقَالَ النَّفَرُ الْأَرْبَعَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنَا مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ لَكُمْ " . ثُمَّ أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّفَرُ الْأَرْبَعَةُ حَتَّى اسْتَقْبَلَهُ عَشَرَةٌ ، فَقَالُوا : أَيْنَ نَبِيُّنَا نَبِيُّ الرَّحْمَةِ ؟ قَالَ : فَحَدَّثَهُمْ بِالَّذِي حَدَّثَ الْقَوْمَ ، فَقَالُوا : - جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ - اجْعَلْنَا مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ لَكُمْ " . فَجَاءُوا جَمِيعًا إِلَى عُظْمِ النَّاسِ ، فَنَادَوْا فِي النَّاسِ : هَذَا نَبِيُّنَا نَبِيُّ الرَّحْمَةِ ، فَحَدَّثَهُمْ بِالَّذِي حَدَّثَ الْقَوْمَ ، فَنَادَوْا بِأَجْمَعِهِمْ : - جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ - جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ ، فَنَادَى ثَلَاثًا : " إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ ، وَأُشْهِدُ مَنْ سَمِعَ : أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ يَمُوتُ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قُرَّةَ بْنِ حَبِيبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوکعب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نصر سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے میں تمہیں ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو انہوں نے مدینہ منورہ سے ہماری طرف لکھ کے بھیجی تھی ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو محفوظ کر لینا کیونکہ یہ حدیث کے خزانوں میں سے ہے انہوں نے بتایا : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ میں شرکت کی ، آپ دن بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ رات ہو گئی جب رات ہو گئی تو آپ نے پڑاؤ کیا لوگوں نے آپ کے اردگرد پڑاؤ کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جو سیده ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر ہیں ، اور فلاں اور فلاں یہ چار افراد تھے ، یہ سو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے بازو کا تکیہ بنا لیا اور آپ سو گئے ، باقی چار افراد بھی آپ کے اردگرد سو گئے ، جب رات کا ایک حصہ گزر گیا اور ان لوگوں نے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ( یہ حضرات آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ) یہاں تک کہ ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا ہوا ، جو سامنے سے تشریف لا رہے تھے ان حضرات نے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے آپ کہاں تھے ؟ ہم نے جب آپ کو نہیں دیکھا تو ہم آپ کے حوالے سے پریشان ہو گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں سو گیا تھا ، جیسا کہ تم نے دیکھا تھا ، نیند میں ، میں نے ایک آواز سنی جو چکی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی ، میں گھبرا کر نیند سے بیدار ہو گیا ، میں اُٹھا اور چل پڑا جبرائیل میرے سامنے آئے اور انہوں نے یہ کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بے شک اللہ تعالیٰ نے ابھی مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو اختیار دوں تو آپ ( دو میں سے کوئی ایک صورت ) اختیار کر لیں ، یا تو یہ ہے کہ آپ کی امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر قیامت کے دن شفاعت ہو ( نبی اکرم علی نے فرمایا : ) تو میں نے اپنی امت کے لئے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ “ ان چاروں افراد نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں ، جن کی آپ شفاعت کریں گے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ چاروں افراد واپس آئے تو ان کا سامنا دس افراد سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : ہمارے نبی ، جو نبی رحمت ہیں ، وہ کہاں تھے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی وہی بات بتائی جو پہلے دوسرے لوگوں کو بتا چکے تھے تو ان لوگوں نے بھی یہی عرض کی : اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے ، آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارے لئے واجب ہو گئی ، پھر یہ سب حضرات باقی دیگر لوگوں کے پاس آ گئے ، ان لوگوں نے باقی لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ یہ ہمارے نبی ، جو نبی رحمت ہیں ، اس کے بعد انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں باقی لوگوں کو بھی بتایا تو ان سب نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے ، آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں ، جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ بلند آواز میں پکار کر یہ فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اور جو سن رہا ہے ، اُسے بھی گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں : کہ میری شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن قرہ بن حبیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن قرہ بن حبیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18497
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقَيْلٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي وَفْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْنَاهُ فَأَنَخْنَا بِالْبَابِ ، وَمَا فِي النَّاسِ أَبْغَضُ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ نَلِجُ عَلَيْهِ ، فَمَا خَرَجْنَا حَتَّى مَا كَانَ فِي النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنَّا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا سَأَلْتَ رَبَّكَ مُلْكًا كَمُلْكِ سُلَيْمَانَ ؟ قَالَ : فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ : " فَلَعَلَّ لِصَاحِبِكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا أَعْطَاهُ دَعْوَةً ، مِنْهُمْ مَنِ اتَّخَذَ بِهَا دُنْيَاهُ فَأُعْطِيَهَا ، وَمِنْهُمْ مَنْ دَعَا بِهَا عَلَى قَوْمِهِ إِذْ عَصَوْهُ فَأُهْلِكُوا بِهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي دَعْوَةً فَاخْتَبَأْتُهَا عِنْدَ رَبِّي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوعقیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک وفد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم آپ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کے دروازے پر سواریاں باندھیں ، اس وقت میرے نزدیک آپ سب سے ناپسندیدہ فرد تھے ، جب میں آپ کے پاس جانے لگا تھا ، لیکن جب ہم آپ کے پاس سے اٹھے تو آپ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد تھے ، ہم میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنے پروردگار سے ایسی بادشاہی کیوں نہیں مانگتے جس طرح سیدنا سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے تمہارے آقا کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ چیز ہو جو سیدنا سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا اُسے ایک مخصوص دعا کا اختیار دیا ، ان انبیاء میں سے کسی نے اس مخصوص دعا کے ذریعے کوئی دنیاوی نتیجہ حاصل کرنا چاہا تو وہ انہیں دے دیا گیا ، اُن میں سے کسی نے اس مخصوص دعا کو اپنی قوم کے خلاف استعمال کیا جب اس قوم نے ان کی نافرمانی کی تھی ، تو اس دعا کی وجہ سے انھیں ہلاکت کا شکار کر دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی ایک مخصوص دعا کا اختیار دیا تو میں نے وہ قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے اپنے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھوا دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18498
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ نَبِيٍّ قَدْ أُعْطِيَ عَطِيَّةً فَتَنَجَّزَهَا ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ لِكَثْرَةِ طُرُقِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کو ایک ( ایک مخصوص دعا کے طور پر ) مخصوص عطیہ دیا گیا اور ہر نبی نے اس دعا کے نتیجے کو اختیار کر لیا ، البتہ میں نے اپنے مخصوص عطیہ کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھ لیا ۔ “
یہ روایت امام بزاز ، امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے کیونکہ اس کے طریق بکثرت ہیں ۔
یہ روایت امام بزاز ، امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے کیونکہ اس کے طریق بکثرت ہیں ۔
حدیث نمبر: 18499
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ عَلَى عَدُوِّي ، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میرے لیے روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز ادا کرنے کی جگہ قرار دے دیا گیا ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں ہوا ، میرے دشمن کے خلاف ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ۔ “ مجھے ہر سرخ فام اور سیاہ فام ( یعنی تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا اور وہ میری امت کے ہر اُس فرد کو نصیب ہو گی جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز ادا کرنے کی جگہ بنا دیا گیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ مجاہد نامی راوی نے ” سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ مجاہد نامی راوی نے ” سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18500
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ ، وَجُعِلَتْ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَنُصِرْتُ بِالْرُعْبِ أَمَامِي مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتَهَا لِأُمَّتِي فِهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ حَسَنَيْنِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي التَّيَمُّمِ ، وَطُرُقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي عُمُومِ بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے سرخ فام اور سیاہ فام ( یعنی تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا ، مجھ سے پہلے کے ( انبیاء ) کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا ، میرے لیے روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا اور ایک ماہ کی مسافت سے میرے سامنے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا تو وہ ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو حسن اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق تیمم کے متعلق باب میں گزر چکے ہیں اور کچھ طرق نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی عمومیت سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حسن اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق تیمم کے متعلق باب میں گزر چکے ہیں اور کچھ طرق نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی عمومیت سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
حدیث نمبر: 18501
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ مَا تَعْمَلُ أُمَّتِي بَعْدِي ، فَاخْتَرْتُ لَهُمُ الشَّفَاعَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے دیکھا کہ میرے بعد میری امت کیا عمل کرے گی ( یا میری امت جو عمل کرے گی ) تو میں نے قیامت کے دن ان کے لئے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق کتاب الفتن میں گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق کتاب الفتن میں گزر چکے ہیں ۔