مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّفَاعَةِ . باب: شفاعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَأَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا كَانَ الَّذِي يَلِيهِ الْمُهَاجِرُونَ . قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ . قَالَ : فَتَعَارَرْتُ بِاللَّيْلِ أَنَا وَمُعَاذٌ ، فَنَظَرْنَا فَلَمْ نَرَهُ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا نَطْلُبُهُ إِذْ سَمِعْنَا هَزِيزًا كَهَزِيزِ الْأَرْحَاءِ ، إِذْ أَقْبَلَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ نَظَرَ فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ ! " . فَقَالُوا : انْتَبَهْنَا فَلَمْ نَرَكَ حَيْثُ كُنْتَ ، خَشِينَا أَنْ يَكُونَ أَصَابَكَ شَيْءٌ ; فَجِئْنَا نَطْلُبُكَ . قَالَ : " أَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ أَوْ شَفَاعَةٍ ، فَاخْتَرْتُ لَهُمُ الشَّفَاعَةَ " . فَقُلْنَا : إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ الْإِسْلَامِ ، وَبِحَقِّ الصُّحْبَةِ لَمَا أَدْخَلْتَنَا فِي شَفَاعَتِكَ ، فَدَعَا لَهُمَا . ¤ قَالَ : فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، وَقَالُوا مِثْلَ مَقَالَتِنَا ، وَكَثُرَ النَّاسُ فَقَالَ : " إِنِّي جَاعِلٌ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ( کسی سفر کے دوران ) پڑاؤ کیا کرتے تھے تو مہاجرین آپ کے قریب رہتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : کہ ایک مرتبہ ہم نے پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہم بھی سو گئے ، رات کو کسی وقت میری اور معاذ کی کھلی ، ہم نے دیکھا تو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آئے ، راوی کہتے ہیں : ہم آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ، اسی دوران ہم نے ایک آواز سنی ، جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے ، اسی دوران آپ سامنے سے تشریف لے آئے ، آپ تشریف لا رہے تھے جب آپ نے دیکھا : تو دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا : جب ہم بیدار ہوئے تو ہم نے آپ کو اس جگہ پر نہیں دیکھا ، جہاں آپ تھے ، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو ہم آپ کی تلاش میں آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خواب میں میرے پاس ایک ( فرشتہ یا پیغام ) آیا ، اس نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو وہ ( یعنی پروردگار ) میری نصف امت کو جنت میں داخل کر دے گا ، یا شفاعت ہو ، تو میں نے ان لوگوں کے لیے شفاعت کو اختیار کر لیا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ہم نے عرض کی : ہم اسلام کے حق اور ساتھی ہونے کے حق کے واسطے سے آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت میں شامل کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے لیے دعا کی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ہماری بات کی مانند گزارش کی ، جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ہر اس شخص کی شفاعت کروں گا جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کے مانند نقل کی ہے ۔