مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ تَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ جَرْيًا ، لَيْسَ بِمَشْقُوقٍ " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ فِي الْحَوْضِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18485
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَاحِبُ حَوْضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فِيهِ أَكْوَابٌ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، وَسَعَةُ حَوْضِي مَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن علی بن ابوطالب میرے حوض کا نگران ہو گا ، اس ( حوض ) کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے ، اور میرے حوض کی وسعت اتنی ہے جتنا جابیہ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جن کی توثیق کی گئی ہے ۔