حدیث نمبر: 18478
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ ، فِيهِ أَكَاوِيبُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَإِنَّ مِمَّنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ مِنْ أُمَّتِي الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ ، لَا يُنْكَحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ ، وَلَا يَحْضُرُونَ السُّدَدَ - يَعْنِي أَبْوَابَ السُّلْطَانِ - الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَلَا يُعْطَوْنَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرا حوض اتنا ہے جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد میں برتن ہیں ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، میری امت کے جو لوگ اس حوض پر میرے پاس آئیں گے ان میں کچھ لوگ بکھرے ہوئے بالوں والے میلے کپڑوں والے ہوں گے جو خوشحال عورتوں کے ساتھ شادی نہیں کر سکتے اور نہ ہی بند دروازوں پر آ سکتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ حکمران کے دروازے پر نہیں آ سکتے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) انہوں نے وہ چیز ادا کر دی ہو گی جو ان کے ذمہ ہو گی اور انہیں وہ چیز نہیں دی گئی ہو گی جو ان کا حق ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے بعض رجال میں موجود ضعف کے باوجود اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18478
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7546)»