کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18450
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قَدْ أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْكَوْثَرُ ؟ قَالَ : " نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ عَرْضُهُ وَطُولُهُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، لَا يَشْرَبُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَظْمَأُ ، وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَشْعَثُ ، لَا يَشْرَبُهُ مَنْ أَخَفَرَ ذِمَّتِي وَلَا قَتَلَ أَهْلَ بَيْتِي . قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْكَوْثَرِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَعَطِيَّةُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے ( حوض ) کوثر عطا کر دیا گیا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کوثر کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایک نہر ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی اتنی ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں سے جو شخص پی لے گا وہ بعد میں کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس میں سے جو شخص وضو کر لے گا وہ بعد میں کبھی میلا نہیں ہو گا ، لیکن اسے کوئی ایسا شخص نہیں پیے گا ، جس نے میری دی ہوئی پناہ کے خلاف ورزی کی ہو ، یا میرے اہل بیت کو قتل کیا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے جو حوض کوثر کے بارے میں ہے ، لیکن اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن یحیی بن مختار ہے اور وہ مجہول ہے اور ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن یحیی بن مختار ہے اور وہ مجہول ہے اور ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18451
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَوْضِي مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا ، فِيهِ مِنَ الْآنِيَةِ عَدَدُ النُّجُومِ ، أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا حوض وہاں سے لے کر وہاں تک ہے ، جس کے پاس ستاروں کی تعداد میں برتن ہوں گے ( اس حوض کا مشروب ) مشک سے زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ، شہد سے زیادہ میٹھا ، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دودھ سے زیادہ سفید ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ بعد میں کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور جو شخص اس میں سے نہیں پی پائے گا وہ بعد میں کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18452
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَوْعِدُكُمْ حَوْضِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے انصار کے گروہ ! تم سے ملنے کا وعدہ ( یا ملنے کی جگہ ) میرے حوض پر ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18453
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِي نَهْرًا مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى أَيْلَةَ ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ آنِيَةٌ ، وَهُوَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ لَمْ يَرْوَ أَبَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری ایک نہر ہے ( یعنی حوض ہے جو اتنا بڑا ہے ) جتنا ” صنعاء “ اور ” ایلہ “ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں ستاروں کی تعداد جتنے برتن ہیں ( اس کا مشروب ) برف سے زیادہ ٹھنڈا ہو گا ، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ، دودھ سے زیادہ سفید ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی اور جو شخص اس میں سے نہیں پی سکے گا وہ کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18454
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ : شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَوْضِ ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا مُؤَنَّقًا أَعْجَبَهُ ، فَقَالَ لَهُ : سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا . وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ أَخِي . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : تَقَدَّمَ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ فِي كِتَابِ الْعِلْمِ ، فِي بَابِ مَنْ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں : عبید بن زیاد کو حوض کوثر کے بارے میں شک ہوا ، اس نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے حوض کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اسے اس کے بارے میں حدیث بیان کی ، جو اس کو اچھی لگی ، اس نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میرے بھائی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ ایک حدیث جو حوض کوثر کے تذکرے کے بارے میں ہے ، وہ کتاب العلم میں ، باب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ ایک حدیث جو حوض کوثر کے تذکرے کے بارے میں ہے ، وہ کتاب العلم میں ، باب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 18455
وَعَنْ يُحَنِّسَ : أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ فَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزُورُ حَمْزَةَ فِي بَيْتِهَا ، وَكَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْهُ [ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] أَحَادِيثَ ، قَالَتْ : فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَأَحَبُّ النَّاسِ عِنْدِي أَنْ يَرْوَى مِنْهُ قَوْمُكِ " . قَالَ : فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ بُرْمَةً فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيزَةٌ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَأَحْرَقَتْ أَصَابِعَهُ ، فَقَالَ : " حَسِّ " . ثُمَّ قَالَ : " ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ : حَسِّ ، وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ : حَسِّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : " وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ - أَوْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ - إِلَيَّ أَنْ يَرِدَهُ " . وَقَالَ فِيهِ : فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ عَصِيدَةً . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یحنس بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزه بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے سیدہ خولہ بنت قیس بن فہد انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ، جو بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان سے ملنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے ، تو اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث روایت کی ہیں ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بارے میں مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ نے یہ بات بیان کی ہے : قیامت کے دن آپ کا ایک حوض ہو گا جو فلاں جگہ سے لے کر فلاں جگہ جتنا بڑا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور میرے نزدیک اس میں سے سیراب ہونے کے حوالے سے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہنڈیا پیش کی ، جس میں خبزہ یا خزیرہ نامی سالن تھا ۔ یہ شک راوی کو ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک ہنڈیا پر رکھا تاکہ کھائیں ، تو آپ کی انگلیاں جل گئیں ، آپ نے فرمایا : اوہ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انسان کو جب کوئی چیز ٹھنڈی لگتی ہے تو وہ پھر بھی وہ کہتا ہے ” اوہ “ جب اسے گرم چیز لگتی ہے تو پھر بھی وہ ” اوہ “ کہتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اسے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : آپ نے فرمایا : ” میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : اس پر وارد ہونے کے حوالے سے لوگوں میں میرے نزدیک محبوب ترین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” عصیدہ “ پیش کیا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اسے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : آپ نے فرمایا : ” میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : اس پر وارد ہونے کے حوالے سے لوگوں میں میرے نزدیک محبوب ترین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” عصیدہ “ پیش کیا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18456
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَكَ حَوْضًا ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَأَحَبُّ عَلَيَّ مَنْ يَرِدُهُ قَوْمُكِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، وَقَالَ النَّاسُ : عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا حوض ہو گا ؟ نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور وہاں آنے کے حوالے سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ابوخالد أحمد نے اسے اسی طرح سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جبکہ دیگر لوگوں کا یہ کہنا ہے : یہ سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ابوخالد أحمد نے اسے اسی طرح سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جبکہ دیگر لوگوں کا یہ کہنا ہے : یہ سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18457
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا : أُمُّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ ، وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ ، وَتُقْرِي الضَّيْفَ ، غَيْرَ أَنَّهَا وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أُمُّكُمَا فِي النَّارِ " . فَأَدْبَرَا وَالسُّوءُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُدَّا - أَوْ فَرَجَعَا - وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ ، فَقَالَ : " أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ : وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ [ شَيْئًا ] ، وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَهُ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] : هَلْ وَعَدَكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا ؟ قَالَ : فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ ، قَالَ : " مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي ، وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ ، وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ حُفَاةً ، عُرَاةً ، غُرْلًا ، فَيَكُونُ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : اكْسُوا خَلِيلِي ، فَيُؤْتَى بِرَبْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ فَيَلْبَسُهُمَا ، ثُمَّ يَقْعُدُ مُسْتَقْبِلَ الْعَرْشِ ، ثُمَّ أُوتَى بِكِسْوَتِي فَأَلْبَسُهَا ، فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي يَغْبِطُنِي فِيهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ " . ¤ قَالَ : " وَيُفْتَحُ نَهْرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ " . فَقَالَ الْمُنَافِقُ : إِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ ؟ قَالَ : " حَالُهُ الْمِسْكُ ، وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ " . قَالَ الْمُنَافِقُ : لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ ، قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتُهُ . قَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَهُ نَبْتٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، قَضْبَانَ الذَّهَبِ " قَالَ الْمُنَافِقُ : لَمْ أَسْمَعَ كَالْيَوْمِ ، [ فَإِنَّهُ ] .قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَنْ أَوْرَقَ إِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلْ مِنْ ثَمَرٍ ؟ قَالَ " نَعَمْ أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ،[ إِنَّ ] مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ ،وَ[ إِنَّ ] مَنْ حُرِمَهُ لَمْ يَرْوَ بَعْدَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ كُلِّهِمْ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ملیکہ کے دو صاحبزادے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں نے عرض کی : ہماری والدہ شوہر کا احترام کرتی تھی ، بچوں پر مہربان تھی ، مہمان نوازی کیا کرتی تھی ، تاہم انہوں نے زمانہ جاہلیت میں زندہ درگور کیا تھا ( یا شاید یہ مراد ہے کہ اس کا انتقال زمانہ جاہلیت میں ہو گیا تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں کی ماں جہنم میں جائے گی ، وہ دونوں واپس چلے گئے ، ان کے چہرے سے پریشانی کا اظہار ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں واپس بلایا گیا ، وہ دونوں واپس آئے تو ان کے چہرے سے خوشی کے آثار محسوس ہو رہے تھے ، انہیں امید تھی کہ شاید اس بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری ماں بھی ، تم دونوں کی ماں کے ساتھ ہو گی ۔ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: یہ تو اپنی ماں کے کسی کام نہیں آ سکے اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں ، اس پر انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس شخص سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے والا اور کوئی شخص نہیں دیکھا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پروردگار نے آپ کے ساتھ ان کے بارے میں ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ۔ ان دونوں ( یعنی آپ کے والدین ) کے بارے میں کوئی وعدہ کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان کا یہ گمان ہے کہ شاید اس نے اس بارے میں کچھ سن رکھا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے اس بارے میں سوال نہیں کیا ، اور میرے پروردگار نے مجھے اس بارے میں کوئی امید نہیں دلائی ، البتہ قیامت کے دن میں مقام محمود پر فائز ہوؤں گا ۔ اس انصاری نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ” مقام محمود “ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگ برہنہ جسم ، برہنہ پاؤں اور ختنے کے بغیر حالت میں لائے جاؤ گے ، تو سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے خلیل کو لباس پہناؤ ، تو دو سفید چادریں لائی جائیں گی اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں پہن لیں گے ، پھر وہ عرش کے سامنے بیٹھ جائیں گے ، پھر میرا لباس لایا جائے گا اور میں اسے پہن لوں گا اور عرش کے دائیں طرف ایسی جگہ پر کھڑا ہوؤں گا جہاں میرے علاوہ اور کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا اور اس حوالے سے پہلے والے اور بعد والے لوگ مجھ پر رشک کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : کوثر سے حوض تک ایک نہر کھولی جائے گی ، ایک منافق نے کہا: نہر کا پانی تو صرف کالی سیاہ مٹی یا چھوٹی کنکریوں پر ہی بہہ سکتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی مٹی مشک کی ہو گی اور اس کی کنکریاں موتیوں کی ہوں گی ، منافق نے کہا: میں نے آج کی طرح کی بات کبھی نہیں سنی ، جب بھی کوئی پانی مٹی پر یا کنکریوں پر بہتا ہوا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نباتات بھی اُگتے ہیں ، انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس نہر کے نباتات بھی ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! سونے کی چھڑیاں ( یعنی پودے ) ہوں گے ، منافق نے کہا: میں نے آج کی طرح کی بات کبھی نہیں سنی ، جب بھی نباتات ہوتے ہیں ، تو ان کے پتے بھی ہوتے ہیں اور ان کے پھل بھی ہوتے ہیں ، انصاری نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اس کے پھل بھی ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! مختلف قسم کے جواہرات کی شکل میں ہوں گے ، اُس حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ اس کے بعد پیاسا نہیں ہو گا اور جو شخص اس سے محروم رہے گا وہ اس کے بعد کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18458
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ يَزِيدُ [ بْنُ ] الْأَخْنَسِ : وَاللَّهِ ، مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ " . قَالَ : فَمَا سَعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ ، وَأَوْسَعُ ، وَأَوْسَعُ " . يُشِيرُ بِيَدِهِ ، قَالَ : " فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ " . ¤ قَالَ : فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى [ مَذَاقَةً ] مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا " . قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيَّ وَابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الطَّبَرَانِيِّ : فَمَا شَرَابُهُ ؟ قَالَ : " شَرَابُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ۔ “ اس پر سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! آپ کی امت میں اتنے لوگ تو یوں ہوں گے ، جس طرح مکھیوں کے درمیان سرخی مائل رنگت کی مکھی ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میرے ساتھ ستر ہزار لوگوں کا وعدہ کیا ہے جن میں سے ہر ایک ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے ، اور اس نے اس کے ہمراہ تین لپ ( یعنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا دینا ) مزید کا وعدہ کیا ہے ، اس شخص نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جتنا عدن سے عمان تک کا درمیانی فاصلہ ہے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ، اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، آپ نے فرمایا : اس میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے دو پرنالے ہیں ۔ اس شخص نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ کا حوض کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اُس کا مشروب ) دودھ سے زیادہ سفید ہے اور وہ چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبو والا ہے ، جو شخص اُس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال صحیح رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اس نے دریافت کیا : اس کا مشروب کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور ذائقے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال صحیح رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اس نے دریافت کیا : اس کا مشروب کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور ذائقے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 18459
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا فَلَمْ يَجِدْهُ ، فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ - وَكَانَتْ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ - فَقَالَتْ : خَرَجَ بِأَبِي أَنْتَ عَامِدًا نَحْوَكَ ، فَكَأَنَّهُ أَخْطَأَكَ فِي بَعْضِ أَزِقَّةِ بَنِي النَّجَّارِ ، أَفَلَا تَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَدَخَلَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ حَيْسًا ، فَأَكَلَ مِنْهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَنِيئًا لَكَ وَمَرِيئًا ، لَقَدْ جِئْتَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَكَ فَأُهَنِّئَكَ وَأُمَرِّئَكَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَارَةَ أَنَّكَ أُعْطِيتَ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ يُدْعَى الْكَوْثَرَ ، قَالَ : " أَجَلْ . وَعَرْصَتُهُ يَاقُوتٌ وَمَرْجَانٌ ، وَزَبَرْجَدٌ وَلُؤْلُؤٌ " . قَالَتْ : أُحِبُّ أَنْ تَصِفَ لِي حَوْضَكَ بِصِفَةٍ أَسْمَعُهَا مِنْكَ ، قَالَ : " هُوَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ ، فِيهِ أَبَارِيقُ مِثْلُ عَدَدِ النُّجُومِ ، وَأَحَبُّ وَارِدِهَا عَلَيَّ قَوْمُكِ يَا بِنْتَ حَمْدٍ " . - يَعْنِي الْأَنْصَارَ - . قُلْتُ : لَعَلَّهُ : يَا بِنْتَ قَهْدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے انہیں ( گھر میں ) نہیں پایا ، آپ نے ان کی اہلیہ سے ان کے بارے میں دریافت کیا ، اس خاتون کا تعلق بنو نجار سے تھا ، اس خاتون نے بتایا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، وہ آپ کی طرف جانے کے لئے ہی نکلے تھے ، ہو سکتا ہے بنو نجار کی کسی گلی میں ان کا آپ سے سامنا نہ ہو پایا ہو ، یا رسول اللہ ! آپ اندر کیوں نہیں تشریف لاتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ، اس خاتون نے آپ کی خدمت میں ” حیس “ پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا ، اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بہت ، بہت مبارک ہو ، آپ تشریف لے آئے ہیں ، ورنہ میرا آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا اور آپ کو مبارکباد پیش کرنے کا ارادہ تھا ، سیدنا ابوعمارہ رضی اللہ عنہ ( یعنی سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ) نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کو جنت میں ایک نہر دی گئی ہے ، جس کا نام کوثر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس کی زمین ( یا اس کے کنارے کی زمین ) یاقوت ، مرجان ، زبرجد اور موتیوں کی ہے ، اس خاتون نے عرض کی : میری یہ خواہش ہے کہ آپ اپنے حوض کی صفت میرے سامنے یوں بیان کریں کہ میں وہ آپ سے سن لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ایلہ اور صنعاء کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد جتنے ہیں اور وہاں آنے والوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ، اے بنت حمد ! ( راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اے انصار سے تعلق رکھنے والی خاتون ! ) ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید روایت کے درست الفاظ یہ ہیں : ” اے بنت قہد ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18460
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَإِنَّكُمْ وَارِدُونَ [ عَلَيَّ ] الْحَوْضَ ، حَوْضِي عَرْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى ، وَفِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانٌ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا : السَّبَبُ الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ، وَلَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ; فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ : أَنَّهُمَا لَنْ يَنْقَضِيَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِمَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْآخَرِ كَذَلِكَ غَيْرَ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے ، میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس کے پاس ستاروں کی تعداد میں چاندی اور سونے کے بنے ہوئے پیالے ہیں ، جب تم میرے پاس آؤ گے تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ، تو تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا کہ میرے بعد تم ان دونوں کے بارے میں کیا کرتے ہو ؟ بڑا سبب اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک کنارہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھ میں ہے ، تو تم اس کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، تم گمراہ نہ ہونا اور تم تبدیلی نہ کرنا ( اور دوسری چیز ) میری عترت ، میرے اہل بیت ہیں ، کیونکہ علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، یہ دونوں ختم نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری کے بھی اسی طرح ہیں ، صرف نصر بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے ، اگر اللہ نے چاہا تو وہ بھی ثقہ ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری کے بھی اسی طرح ہیں ، صرف نصر بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے ، اگر اللہ نے چاہا تو وہ بھی ثقہ ہو گا ۔
حدیث نمبر: 18461
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَتَبَاهَوْنَ : أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَصْحَابًا مِنْ أُمَّتِهِ ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ يَوْمَئِذٍ أَكْثَرَهُمْ كُلِّهِمْ وَارِدَةً ، وَإِنَّ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ قَائِمٌ عَلَى حَوْضٍ مَلْآنَ ، مَعَهُ عَصًا يَدْعُو مَنْ عَرَفَ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ سِيمَا يَعْرِفُهُمْ بِهَا نَبِيُّهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” انبیاء کرام ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے کہ ان کی امت میں سے کس کے ساتھی زیادہ ہیں ؟ تو مجھے یہ امید ہے کہ اس دن میرے ساتھی سب سے زیادہ ہوں گے ، اور وہ سب ( حوض پر میرے پاس ) آئیں گے ، اُس دن ان انبیاء کرام میں سے ہر ایک بھرے ہوئے حوض کے پاس کھڑا ہو گا ، اس کے پاس عصا ہو گا ، وہ اپنی امت کے جس فرد کو پہچانے گا اسے بلائے گا اور ہر امت کی مخصوص نشانی ہو گی ، جس کے ذریعے ان کا نبی انہیں پہچان لے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن جعفر سمری ہے جسے ابن ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ازدی کہتے ہیں : لوگ اس کے بارے میں کلام کرتے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن جعفر سمری ہے جسے ابن ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ازدی کہتے ہیں : لوگ اس کے بارے میں کلام کرتے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18462
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، مَنْ وَرَدَ عَلَيَّ وَشَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا [ أَلَا ] ، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ بِعِرْفَانٍ ، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : " لَيَرِدَنَّ " . إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص میرے پاس آ جائے گا اور پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، خبردار ! میرے سامنے کچھ ایسے لوگ آئیں گے ، جنہیں میں پہچانوں گا لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ آ جائے گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں ” لیردن “ ( میرے پاس آئیں گے ) سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں ” لیردن “ ( میرے پاس آئیں گے ) سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18463
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِكُلٍّ فَارِطًا ، وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَمَنْ وَرَدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ وَشَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ ، وَمَنْ لَمْ يَظْمَأْ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيِّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان ( یعنی سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی پیشرو ہو گا اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص حوض پر میرے پاس آ جائے گا اور پی لے گا اسے پیاس نہیں لگے گی اور جسے پیاس نہیں لگے گی وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن یعقوب زمعی کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی پیشرو ہو گا اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص حوض پر میرے پاس آ جائے گا اور پی لے گا اسے پیاس نہیں لگے گی اور جسے پیاس نہیں لگے گی وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن یعقوب زمعی کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18464
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ : إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَنْفَعُ قَوْمَهُ ؟ بَلَى وَاللَّهِ ، إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَإِنِّي يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَإِذَا جِئْتُمْ ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، وَقَالَ آخَرُ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، فَأَقُولُ : فَأَمَّا النِّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمُ الْقَهْقَرَى " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جو یہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری اُن کی قوم کو نفع نہیں دے گی ، جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میرے ساتھ رشتہ داری کا تعلق ، دنیا اور آخرت میں جڑا رہے گا اور اے لوگو ! بیشک میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جب تم لوگ آؤ گے تو کوئی شخص یہ کہے گا : یا رسول اللہ ! میں فلاں بن فلاں ہوں ، کوئی دوسرا یہ کہے گا : میں فلاں بن فلاں ہوں ، تو میں یہ کہوں گا : جہاں تک نسب کا تعلق ہے تو اس کو میں نے جان لیا ہے لیکن تم لوگوں نے میرے بعد نئی چیز پیدا کی اور اُلٹے قدموں پھر گئے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18465
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ ، وَيُجَاءُ بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، فَيُقَالُ : مَا زَالُوا بَعْدَكَ مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ ، اتَّقُوا النَّارَ ، اتَّقُوا الْحُدُودَ ، فَإِذَا مِتُّ تَرَكْتُكُمْ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِنْدَهُمْ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص اس پر وارد ہو گا ، وہ کامیاب ہو جائے گا ، کچھ لوگوں کو لایا جائے گا ، پھر انہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جایا جائے گا ، تو میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ کہا: جائے گا : یہ لوگ تمہارے بعد ایڑیوں کے بل مرتد ہو گئے تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں ڈب سے ( یعنی پہلو سے ) پکڑتا ہوں ، تم لوگ جہنم سے بچو ! تم لوگ حدود ( کی خلاف ورزی کرنے ) سے بچو ! جب میں مر جاؤں گا ، تو تمہیں چھوڑ جاؤں گا اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں ڈب سے ( یعنی پہلو سے ) پکڑتا ہوں ، تم لوگ جہنم سے بچو ! تم لوگ حدود ( کی خلاف ورزی کرنے ) سے بچو ! جب میں مر جاؤں گا ، تو تمہیں چھوڑ جاؤں گا اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں
حدیث نمبر: 18466
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ " . قَالَ : " فَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ مِنْ ذَوِيَّ فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ! أُمَّتِي ! " . قَالَ : " فَيُقَالُ : وَمَا يُدْرِيكَ مَا عَمِلُوا بِعْدَكَ ؟ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " . ¤ قَالَ جَابِرٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالْحَوْضُ مَسِيرَةُ شَهْرٍ ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ ، يَعْنِي : عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ ، وَكِيزَانُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں حوض پر موجود ہوؤں گا اور اس بات کا جائزہ لوں گا کہ کون میرے پاس آتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھ سے فاصلے پر کچھ لوگوں کو پکڑ لیا جائے گا ( اور میرے پاس نہیں آنے دیا جائے گا ) تو میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت میری امت ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو یہ کہا: جائے گا : تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا عمل کیا تھا ؟ تمہارے بعد یہ مسلسل ایڑیوں کے بل پلٹتے رہے تھے ۔ “ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حوض ( کی لمبائی ) ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے اور اس کے دونوں گوشے بھی اسی طرح ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : یعنی اس کی چوڑائی بھی اس کی لمبائی جتنی ہے ۔ ” اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں اور وہ ( یعنی اس کا مشروب ) مشک سے زیادہ خوشبو والا ، دودھ سے زیادہ سفید ہے ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18467
وَعَنْهُ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ شَيْئًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْمَرْفُوعِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مَرْفُوعًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَرَوَاهُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا " . بِرِجَالِ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
ان ( یعنی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جب تم مجھے نہیں دیکھو گے تو میں حوض پر ہوؤں گا ، جس کی مقدار ” ایلہ “ سے لے کر ” مکہ “ تک کے درمیانی فاصلے جتنی ہے ، عنقریب کچھ مرد اور عورتیں مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے ، لیکن وہ اس ( حوض ) میں سے کچھ بھی نہیں پی سکیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور موقوف روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن لہیعہ ہے انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں پی سکیں گے ۔ “ یہ ” صحیح “ کے رجال سے منقول ہے ، امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور موقوف روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن لہیعہ ہے انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں پی سکیں گے ۔ “ یہ ” صحیح “ کے رجال سے منقول ہے ، امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18468
وَعَنْ سَمُرَةَ - يَعْنِي ابْنَ جُنْدُبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَرِدُ عَلَيَّ قَوْمٌ مِمَّنْ كَانُوا مَعِي ، فَإِذَا رَفَعُوا إِلَيَّ رُءُوسَهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ : أَصْحَابِي ! أَصْحَابِي ! فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کچھ لوگ میرے سامنے آئیں گے جو میرے ساتھ تھے ، جب ان کے سر میرے سامنے آئیں گے تو انہیں مجھ سے پہلے ہی روک لیا جائے گا ، میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میرے ساتھی ، میرے ساتھی ، تو کہا: جائے گا : تم نہیں جانتے ، تمہارے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18469
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنَ صَحِبَنِي [ وَرَآنِي حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتَلَجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ : رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي ] فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهُ كَرِجَالِ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حوض پر میرے سامنے کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو میرے ساتھ رہے اور انہوں نے مجھے دیکھا ، یہاں تک کہ جب وہ میرے سامنے آئیں گے اور میں انہیں دیکھوں گا تو انہیں مجھ سے پہلے ہی روک لیا جائے گا ، میں یہ ضرور کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میرے ساتھی ، میرے ساتھی ، تو یہ کہا: جائے گا : تم نہیں جانتے ، تمہارے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور ان میں سے ایک کے رجال امام أحمد کے رجال کی مانند ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور ان میں سے ایک کے رجال امام أحمد کے رجال کی مانند ہیں ۔
حدیث نمبر: 18470
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُلْفَيَنَّ مَا نُوزِعْتُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَأَقُولُ : أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي . فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " . قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ : " لَسْتَ مِنْهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں یہ صورتحال نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی ایک کو حوض پر میرے پاس نہ آنے دیا جائے اور میں یہ کہوں کہ یہ تو میرے ساتھیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، تو یہ کہا: جائے : آپ نہیں جانتے ، آپ کے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ۔ “ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے اُن میں نہ بنائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اُن میں سے نہیں ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18471
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيُرْفَعَنَّ لِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِي ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي فَأَقُولُ : أَصْحَابِي ! فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ میرے سامنے آئیں گے ، یہاں تک کہ جب میں انہیں دیکھوں گا تو انہیں مجھ سے پہلے ہی روک لیا جائے گا ، میں کہوں گا : یہ میرے ساتھی ہیں ، تو یہ کہا: جائے گا : آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18472
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَرْضُهُ ؟ قَالَ : " مَا بَيْنَ أَيْلَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - إِلَى مَكَّةَ ، فِيهِ مَكَاكِيُّ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ ، لَا يَتَنَاوَلُ مُؤْمِنٌ مِنْهَا فَيَضَعُهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ آخَرُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، قَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ : يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا بَيَّنَ السَّمَاعَ مِنْ ثِقَةٍ ، وَدُونَهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور میں دوسری امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ، تو تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو ۔ “ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ( حوض ) کا حجم کتنا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جتنا ” ایلہ “ سے لے کر ” مکہ “ تک کا درمیانی فاصلہ ہے ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے ، مؤمن ان میں سے کوئی برتن پکڑے گا اور پھر وہ اسے رکھے گا نہیں کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا اسے پکڑ لے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن اسود ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے کتاب الثقات میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ، جب یہ کسی ثقہ راوی سے سماع کی وضاحت کر دے ، اور اس کے بعد والا راوی بھی ثقہ ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن اسود ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے کتاب الثقات میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ، جب یہ کسی ثقہ راوی سے سماع کی وضاحت کر دے ، اور اس کے بعد والا راوی بھی ثقہ ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18473
وَعَنِ الْفَرَزْدَقِ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا فَرَزْدَقُ ، إِنِّي أَرَاكَ صَغِيرَ الْقَدَمَيْنِ ، فَإِنْ أَمْكَنَكَ أَنْ يَكُونَ لَهُمَا عِنْدَ الْحَوْضِ مَكَانٌ فَافْعَلْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " حَوْضِي مَا بَيْنَ عَمَّانَ وَأَيْلَةَ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، آنِيَتُهُ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا " . ¤
محمد محی الدین
فرزدق بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے فرزدق ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے پاؤں چھوٹے ہیں ، اگر تمہارے لیے یہ ممکن ہو کہ حوض کے پاس ان دونوں کے لیے کوئی جگہ بنا سکتے ہو ، تو تم ایسا کر لینا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرا حوض ، عمان اور ایلہ کے درمیان فاصلے جتنا ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 18474
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنَّ لِي حَوْضًا يَرِدُهُ عَلَيَّ أُمَّتِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَيَثْرِبَ " . قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْفَرَزْدَقُ ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میرے حوض پر میری امت وارد ہو گی ، جو اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور یثرب کے درمیان فاصلہ ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور فرزدق نامی راوی کو ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور فرزدق نامی راوی کو ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18475
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِي حَوْضًا وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَيْهِ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ : " وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا ایک حوض ہے اور میں اس پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے : ” میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے : ” میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18476
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَتَزْدَحِمَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى الْحَوْضِ ازْدِحَامَ الْإِبِلِ وَرَدَتْ لِخَمْسٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ امت حوض پر یوں ہجوم کرے گی ، جس طرح پانی پینے ، جس طرح پانی پینے کے لیے آنے والے اونٹوں کا ہجوم ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18477
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ ، أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا . أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ " . قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ ، الشَّحِبَةُ وُجُوهُهُمْ ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ ، لَا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ ، الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَلَا يَأْخُذُونَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَهَذَا عَلَى الصَّوَابِ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ النَّاسِ ، وَالَّذِي فِي الصَّحِيحِ : " كَمَا بَيْنَ جَرْبَى وَأَذْرَحَ " . وَهُمَا قَرْيَتَانِ إِحْدَاهُمَا إِلَى جَنْبِ الْأُخْرَى . وَقَالَ بَعْضُ مَشَايِخِنَا - وَهُوَ الشَّيْخُ الْعَلَّامَةُ : صَلَاحُ الدِّينِ الْعَلَائِيُّ - : إِنَّهُ سَقَطَ مِنْهُ ، وَهُوَ : " كَمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ جَرْبَى وَأَذْرَحَ " . وَإِنَّهُ وَقَعَ بِهَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ عُمَرَ الْأَحْمُوسِيِّ ، عَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَاسْمُ أَبِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَابِرٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَشَيْخُ أَحْمَدَ : أَبُو الْمُغِيرَةِ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے ( اس کا مشروب ) برف سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ، اس سے برتن آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، اس حوض پر سب سے پہلے غریب مہاجرین آئیں گے ، حاضرین میں سے کسی نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، جن کے چہرے متغیر ہوں گے ، ان کے کپڑے میلے ہوں گے ان کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے ہوں گے ، وہ خوشحال عورتوں کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتے ہوں گے ، جو ان کی ذمہ داری تھی وہ انہوں نے پوری کی ہو گی اور جو ان کا حق تھا وہ انہوں نے وصول نہیں کیا ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے اور یہ درست ہے اور لوگوں کی روایت کے مطابق ہے جبکہ ” صحیح “ میں جو روایت ہے اس میں یہ مذکور ہے : ” جتنا جربی اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے ۔ “ حالانکہ یہ دونوں ایسی بستیاں ہیں ، جو ایک دوسرے کے پہلو میں ہیں ۔ ہمارے ایک استاد شیخ علامہ صلاح الدین العلائی نے فرمایا ہے : شاید اس میں سے ایک لفظ رہ گیا ہے ( اور اصل جملہ یوں ہونا چاہیے : ) جس طرح تم لوگوں کے اور جربی اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے ۔ یہ بات میں نے ان سے سنی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے عمرو بن عمر احموسیٰ کی مخارق بن ابومخارق کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے باپ کا نام عبداللہ بن جابر ہے ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے امام أحمد کے استاد ابومغیرہ صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے عمرو بن عمر احموسیٰ کی مخارق بن ابومخارق کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے باپ کا نام عبداللہ بن جابر ہے ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے امام أحمد کے استاد ابومغیرہ صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔
حدیث نمبر: 18478
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ ، فِيهِ أَكَاوِيبُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَإِنَّ مِمَّنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ مِنْ أُمَّتِي الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ ، لَا يُنْكَحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ ، وَلَا يَحْضُرُونَ السُّدَدَ - يَعْنِي أَبْوَابَ السُّلْطَانِ - الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَلَا يُعْطَوْنَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرا حوض اتنا ہے جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد میں برتن ہیں ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، میری امت کے جو لوگ اس حوض پر میرے پاس آئیں گے ان میں کچھ لوگ بکھرے ہوئے بالوں والے میلے کپڑوں والے ہوں گے جو خوشحال عورتوں کے ساتھ شادی نہیں کر سکتے اور نہ ہی بند دروازوں پر آ سکتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ حکمران کے دروازے پر نہیں آ سکتے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) انہوں نے وہ چیز ادا کر دی ہو گی جو ان کے ذمہ ہو گی اور انہیں وہ چیز نہیں دی گئی ہو گی جو ان کا حق ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے بعض رجال میں موجود ضعف کے باوجود اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے بعض رجال میں موجود ضعف کے باوجود اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18479
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ لِأَهْلِ بَيْتِي ، إِنِّي لَأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ هَذِهِ حَتَّى تَرْفَضَّ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " لِأَهْلِ بَيْتِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کروں گا ، اپنے اہل بیت کی خاطر ، میں اپنے عصا کے ذریعے ان لوگوں کو ماروں گا یہاں تک کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اپنے اہل بیت کی خاطر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18480
وَعَنْ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّهُ ذَكَرَ الْحَوْضَ فَقَالَ : " تَرَى فِيهِ أَبَارِيقَ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، قُلْتُ : وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حوض کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” تم اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد میں برتن دیکھو گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن بشیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن بشیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔