حدیث نمبر: 18477
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ ، أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا . أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ " . قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ ، الشَّحِبَةُ وُجُوهُهُمْ ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ ، لَا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ ، الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَلَا يَأْخُذُونَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَهَذَا عَلَى الصَّوَابِ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ النَّاسِ ، وَالَّذِي فِي الصَّحِيحِ : " كَمَا بَيْنَ جَرْبَى وَأَذْرَحَ " . وَهُمَا قَرْيَتَانِ إِحْدَاهُمَا إِلَى جَنْبِ الْأُخْرَى . وَقَالَ بَعْضُ مَشَايِخِنَا - وَهُوَ الشَّيْخُ الْعَلَّامَةُ : صَلَاحُ الدِّينِ الْعَلَائِيُّ - : إِنَّهُ سَقَطَ مِنْهُ ، وَهُوَ : " كَمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ جَرْبَى وَأَذْرَحَ " . وَإِنَّهُ وَقَعَ بِهَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ عُمَرَ الْأَحْمُوسِيِّ ، عَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَاسْمُ أَبِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَابِرٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَشَيْخُ أَحْمَدَ : أَبُو الْمُغِيرَةِ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے ( اس کا مشروب ) برف سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ، اس سے برتن آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، اس حوض پر سب سے پہلے غریب مہاجرین آئیں گے ، حاضرین میں سے کسی نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، جن کے چہرے متغیر ہوں گے ، ان کے کپڑے میلے ہوں گے ان کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے ہوں گے ، وہ خوشحال عورتوں کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتے ہوں گے ، جو ان کی ذمہ داری تھی وہ انہوں نے پوری کی ہو گی اور جو ان کا حق تھا وہ انہوں نے وصول نہیں کیا ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے اور یہ درست ہے اور لوگوں کی روایت کے مطابق ہے جبکہ ” صحیح “ میں جو روایت ہے اس میں یہ مذکور ہے : ” جتنا جربی اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے ۔ “ حالانکہ یہ دونوں ایسی بستیاں ہیں ، جو ایک دوسرے کے پہلو میں ہیں ۔ ہمارے ایک استاد شیخ علامہ صلاح الدین العلائی نے فرمایا ہے : شاید اس میں سے ایک لفظ رہ گیا ہے ( اور اصل جملہ یوں ہونا چاہیے : ) جس طرح تم لوگوں کے اور جربی اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے ۔ یہ بات میں نے ان سے سنی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے عمرو بن عمر احموسیٰ کی مخارق بن ابومخارق کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے باپ کا نام عبداللہ بن جابر ہے ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے امام أحمد کے استاد ابومغیرہ صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18477
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6162)»