حدیث نمبر: 18460
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَإِنَّكُمْ وَارِدُونَ [ عَلَيَّ ] الْحَوْضَ ، حَوْضِي عَرْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى ، وَفِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانٌ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا : السَّبَبُ الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ، وَلَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ; فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ : أَنَّهُمَا لَنْ يَنْقَضِيَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِمَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْآخَرِ كَذَلِكَ غَيْرَ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے ، میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس کے پاس ستاروں کی تعداد میں چاندی اور سونے کے بنے ہوئے پیالے ہیں ، جب تم میرے پاس آؤ گے تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ، تو تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا کہ میرے بعد تم ان دونوں کے بارے میں کیا کرتے ہو ؟ بڑا سبب اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک کنارہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھ میں ہے ، تو تم اس کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، تم گمراہ نہ ہونا اور تم تبدیلی نہ کرنا ( اور دوسری چیز ) میری عترت ، میرے اہل بیت ہیں ، کیونکہ علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، یہ دونوں ختم نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری کے بھی اسی طرح ہیں ، صرف نصر بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے ، اگر اللہ نے چاہا تو وہ بھی ثقہ ہو گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2683)»