حدیث نمبر: 18459
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا فَلَمْ يَجِدْهُ ، فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ - وَكَانَتْ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ - فَقَالَتْ : خَرَجَ بِأَبِي أَنْتَ عَامِدًا نَحْوَكَ ، فَكَأَنَّهُ أَخْطَأَكَ فِي بَعْضِ أَزِقَّةِ بَنِي النَّجَّارِ ، أَفَلَا تَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَدَخَلَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ حَيْسًا ، فَأَكَلَ مِنْهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَنِيئًا لَكَ وَمَرِيئًا ، لَقَدْ جِئْتَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَكَ فَأُهَنِّئَكَ وَأُمَرِّئَكَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَارَةَ أَنَّكَ أُعْطِيتَ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ يُدْعَى الْكَوْثَرَ ، قَالَ : " أَجَلْ . وَعَرْصَتُهُ يَاقُوتٌ وَمَرْجَانٌ ، وَزَبَرْجَدٌ وَلُؤْلُؤٌ " . قَالَتْ : أُحِبُّ أَنْ تَصِفَ لِي حَوْضَكَ بِصِفَةٍ أَسْمَعُهَا مِنْكَ ، قَالَ : " هُوَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ ، فِيهِ أَبَارِيقُ مِثْلُ عَدَدِ النُّجُومِ ، وَأَحَبُّ وَارِدِهَا عَلَيَّ قَوْمُكِ يَا بِنْتَ حَمْدٍ " . - يَعْنِي الْأَنْصَارَ - . قُلْتُ : لَعَلَّهُ : يَا بِنْتَ قَهْدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے انہیں ( گھر میں ) نہیں پایا ، آپ نے ان کی اہلیہ سے ان کے بارے میں دریافت کیا ، اس خاتون کا تعلق بنو نجار سے تھا ، اس خاتون نے بتایا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، وہ آپ کی طرف جانے کے لئے ہی نکلے تھے ، ہو سکتا ہے بنو نجار کی کسی گلی میں ان کا آپ سے سامنا نہ ہو پایا ہو ، یا رسول اللہ ! آپ اندر کیوں نہیں تشریف لاتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ، اس خاتون نے آپ کی خدمت میں ” حیس “ پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا ، اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بہت ، بہت مبارک ہو ، آپ تشریف لے آئے ہیں ، ورنہ میرا آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا اور آپ کو مبارکباد پیش کرنے کا ارادہ تھا ، سیدنا ابوعمارہ رضی اللہ عنہ ( یعنی سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ) نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کو جنت میں ایک نہر دی گئی ہے ، جس کا نام کوثر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس کی زمین ( یا اس کے کنارے کی زمین ) یاقوت ، مرجان ، زبرجد اور موتیوں کی ہے ، اس خاتون نے عرض کی : میری یہ خواہش ہے کہ آپ اپنے حوض کی صفت میرے سامنے یوں بیان کریں کہ میں وہ آپ سے سن لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ایلہ اور صنعاء کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد جتنے ہیں اور وہاں آنے والوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ، اے بنت حمد ! ( راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اے انصار سے تعلق رکھنے والی خاتون ! ) ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید روایت کے درست الفاظ یہ ہیں : ” اے بنت قہد ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3486) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2959)»