مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَوْضِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ يَزِيدُ [ بْنُ ] الْأَخْنَسِ : وَاللَّهِ ، مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ " . قَالَ : فَمَا سَعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ ، وَأَوْسَعُ ، وَأَوْسَعُ " . يُشِيرُ بِيَدِهِ ، قَالَ : " فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ " . ¤ قَالَ : فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى [ مَذَاقَةً ] مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا " . قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيَّ وَابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الطَّبَرَانِيِّ : فَمَا شَرَابُهُ ؟ قَالَ : " شَرَابُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ " . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ۔ “ اس پر سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! آپ کی امت میں اتنے لوگ تو یوں ہوں گے ، جس طرح مکھیوں کے درمیان سرخی مائل رنگت کی مکھی ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میرے ساتھ ستر ہزار لوگوں کا وعدہ کیا ہے جن میں سے ہر ایک ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے ، اور اس نے اس کے ہمراہ تین لپ ( یعنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا دینا ) مزید کا وعدہ کیا ہے ، اس شخص نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جتنا عدن سے عمان تک کا درمیانی فاصلہ ہے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ، اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، آپ نے فرمایا : اس میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے دو پرنالے ہیں ۔ اس شخص نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ کا حوض کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اُس کا مشروب ) دودھ سے زیادہ سفید ہے اور وہ چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبو والا ہے ، جو شخص اُس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال صحیح رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اس نے دریافت کیا : اس کا مشروب کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور ذائقے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ۔ “