مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَوْضِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا : أُمُّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ ، وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ ، وَتُقْرِي الضَّيْفَ ، غَيْرَ أَنَّهَا وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أُمُّكُمَا فِي النَّارِ " . فَأَدْبَرَا وَالسُّوءُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُدَّا - أَوْ فَرَجَعَا - وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ ، فَقَالَ : " أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ : وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ [ شَيْئًا ] ، وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَهُ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] : هَلْ وَعَدَكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا ؟ قَالَ : فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ ، قَالَ : " مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي ، وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ ، وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ حُفَاةً ، عُرَاةً ، غُرْلًا ، فَيَكُونُ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : اكْسُوا خَلِيلِي ، فَيُؤْتَى بِرَبْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ فَيَلْبَسُهُمَا ، ثُمَّ يَقْعُدُ مُسْتَقْبِلَ الْعَرْشِ ، ثُمَّ أُوتَى بِكِسْوَتِي فَأَلْبَسُهَا ، فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي يَغْبِطُنِي فِيهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ " . ¤ قَالَ : " وَيُفْتَحُ نَهْرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ " . فَقَالَ الْمُنَافِقُ : إِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ ؟ قَالَ : " حَالُهُ الْمِسْكُ ، وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ " . قَالَ الْمُنَافِقُ : لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ ، قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتُهُ . قَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَهُ نَبْتٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، قَضْبَانَ الذَّهَبِ " قَالَ الْمُنَافِقُ : لَمْ أَسْمَعَ كَالْيَوْمِ ، [ فَإِنَّهُ ] .قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَنْ أَوْرَقَ إِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلْ مِنْ ثَمَرٍ ؟ قَالَ " نَعَمْ أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ،[ إِنَّ ] مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ ،وَ[ إِنَّ ] مَنْ حُرِمَهُ لَمْ يَرْوَ بَعْدَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ كُلِّهِمْ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ملیکہ کے دو صاحبزادے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں نے عرض کی : ہماری والدہ شوہر کا احترام کرتی تھی ، بچوں پر مہربان تھی ، مہمان نوازی کیا کرتی تھی ، تاہم انہوں نے زمانہ جاہلیت میں زندہ درگور کیا تھا ( یا شاید یہ مراد ہے کہ اس کا انتقال زمانہ جاہلیت میں ہو گیا تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں کی ماں جہنم میں جائے گی ، وہ دونوں واپس چلے گئے ، ان کے چہرے سے پریشانی کا اظہار ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں واپس بلایا گیا ، وہ دونوں واپس آئے تو ان کے چہرے سے خوشی کے آثار محسوس ہو رہے تھے ، انہیں امید تھی کہ شاید اس بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری ماں بھی ، تم دونوں کی ماں کے ساتھ ہو گی ۔ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: یہ تو اپنی ماں کے کسی کام نہیں آ سکے اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں ، اس پر انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس شخص سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے والا اور کوئی شخص نہیں دیکھا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پروردگار نے آپ کے ساتھ ان کے بارے میں ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ۔ ان دونوں ( یعنی آپ کے والدین ) کے بارے میں کوئی وعدہ کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان کا یہ گمان ہے کہ شاید اس نے اس بارے میں کچھ سن رکھا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے اس بارے میں سوال نہیں کیا ، اور میرے پروردگار نے مجھے اس بارے میں کوئی امید نہیں دلائی ، البتہ قیامت کے دن میں مقام محمود پر فائز ہوؤں گا ۔ اس انصاری نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ” مقام محمود “ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگ برہنہ جسم ، برہنہ پاؤں اور ختنے کے بغیر حالت میں لائے جاؤ گے ، تو سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے خلیل کو لباس پہناؤ ، تو دو سفید چادریں لائی جائیں گی اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں پہن لیں گے ، پھر وہ عرش کے سامنے بیٹھ جائیں گے ، پھر میرا لباس لایا جائے گا اور میں اسے پہن لوں گا اور عرش کے دائیں طرف ایسی جگہ پر کھڑا ہوؤں گا جہاں میرے علاوہ اور کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا اور اس حوالے سے پہلے والے اور بعد والے لوگ مجھ پر رشک کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : کوثر سے حوض تک ایک نہر کھولی جائے گی ، ایک منافق نے کہا: نہر کا پانی تو صرف کالی سیاہ مٹی یا چھوٹی کنکریوں پر ہی بہہ سکتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی مٹی مشک کی ہو گی اور اس کی کنکریاں موتیوں کی ہوں گی ، منافق نے کہا: میں نے آج کی طرح کی بات کبھی نہیں سنی ، جب بھی کوئی پانی مٹی پر یا کنکریوں پر بہتا ہوا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نباتات بھی اُگتے ہیں ، انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس نہر کے نباتات بھی ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! سونے کی چھڑیاں ( یعنی پودے ) ہوں گے ، منافق نے کہا: میں نے آج کی طرح کی بات کبھی نہیں سنی ، جب بھی نباتات ہوتے ہیں ، تو ان کے پتے بھی ہوتے ہیں اور ان کے پھل بھی ہوتے ہیں ، انصاری نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اس کے پھل بھی ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! مختلف قسم کے جواہرات کی شکل میں ہوں گے ، اُس حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ اس کے بعد پیاسا نہیں ہو گا اور جو شخص اس سے محروم رہے گا وہ اس کے بعد کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔