مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ . باب: اذان دینے کی فضیلت
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مَرَّةً وَمَرَّةً - حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ - لَمَا حَدَّثْتُ بِهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ وَلَا يَفْزَعُونَ حِينَ يَفْزَعُ النَّاسُ : رَجُلٌ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَقَامَ بِهِ يَطْلُبُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَمَا عِنْدَهُ ، وَرَجُلٌ نَادَى فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ يَطْلُبُ وَجْهَ اللَّهِ وَمَا عِنْدَهُ ، وَمَمْلُوكٌ لَمْ يَمْنَعْهُ رِقُّ الدُّنْيَا عَنْ طَاعَةِ رَبِّهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اگر میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک مرتبہ یا دو مرتبہ ، یہاں تک کے انہوں نے سات مرتبہ کا شمار کروایا کہ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات اتنی مرتبہ نہ سنی ہوتی ، تو میں اس کو بیان نہ کرتا ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے گھبراہٹ انہیں متاثر نہیں کرے گی جب لوگ پریشان ہوں گے ، تو وہ پریشان نہیں ہوں گے وہ شخص جو قرآن کا علم حاصل کرے اور پھر اس کے ساتھ مصروف رہے ، اور اس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا مندی اور جو کچھ اس کے پاس ہے ، اس کی حصول کا خواہاں ہو اور وہ شخص جو روزانہ پانچ نمازوں کے لئے اذان دے وہ اس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضامندی اور جو کچھ اس کے پاس ہے ، اس کے حصول کا خواہاں ہوں ، اور ایسا مملوک جو دنیا میں غلامی اسے اپنے پروردگار کی اطاعت سے نہ روکے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمندی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔