مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ . باب: اذان دینے کی فضیلت
وعنهُ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثَةٌ لَا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ ، وَلَا يَنَالُهُمُ الْحِسَابُ ، هُمْ عَلَى كَثِيبٍ مِنْ مِسْكٍ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ : رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَمَّ بِهِ قَوْمًا وَهُمْ رَاضُونَ بِهِ ، وَدَاعٍ يَدْعُو إِلَى الصَّلَوَاتِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ، وَعَبْدٌ أَحْسَنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ وَفِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيهِ " . ¤ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین قسم کے لوگوں کو بڑی گھبراہٹ پریشانی کا شکار نہیں کرے گی انہیں حساب کا سامنا نہیں کرنا ہو گا ، اور جب تک مخلوق کا حساب ختم نہیں ہوتا اس وقت تک وہ لوگ مشک کے بنے ہوئے ٹیلوں پر موجود ہیں گے ، وہ شخص جس نے اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے قرآن پڑھا ہو اور اس کے حوالے سے لوگوں کی امامت کرتا ہو اور وہ لوگ اس سے راضی ہوں وہ بلانے والا شخص جو اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے نمازوں کی طرف بلاتا ہے ( یعنی اذان دیتا ہے ) اور وہ غلام جو اپنے اور اپنے پروردگار کے معاملات اور اپنے اور اپنے آقا کے معاملات کو احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن عبدالعزیز مقری ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔