حدیث نمبر: 1844
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كَالشَّهِيدِ الْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ ، يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ مَا يَشْتَهِي بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رُسْتُمَ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي بَابِ الْمُؤَذِّنِ الْمُحْتَسِبَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ثواب کی امید رکھنے والا مؤذن اس شہید کی مانند ہے ، جو اپنے خون میں لت پت ہو جائے وہ مؤذن اذان اور اقامت کے درمیان جو بھی خواہش ہو اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن رستم ہے ، جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، لیکن اس کا محل صدق ہے یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ثواب کی امید رکھنے والے موذن سے متعلق باب میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1844
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔