حدیث نمبر: 18440
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا : أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا ، وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ ، فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا ، وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَنْغَبِطُ عَلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ : وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ ، وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ : وُكِّلْتُ بِمَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ، وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ، وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ، فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَطْرَحُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ ، وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَرَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ ، تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ ، وَكَالْبَرْقِ ، وَكَالرِّيحِ ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ ، وَالرِّكَابِ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ : رَبِّ ، سَلِّمْ ! سَلِّمْ ! فَتَمُوجُ : فَسَالِمٌ ، وَمَخْدُوشٌ سَلِمَ ، وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " . قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن کوئی حبیب ، اپنے حبیب کو یاد رکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! جہاں تک تین مقامات کا تعلق ہے تو ( وہاں ) نہیں ، میزان کے پاس جب تک وہ بوجھل یا ہلکا نہیں ہو جاتا تو وہاں نہیں ، جب نامہ اعمال دیے جائیں گے ، جو یا دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، تو وہاں نہیں ، اور جب جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی ، وہ گردن یہ کہے گی : مجھے تین افراد کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، مجھے تین افراد کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، مجھے اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت کرتا تھا ، مجھے اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا ، اور مجھے ہر ظالم سرکش کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، پھر وہ انہیں لپیٹ میں لے گی اور انہیں جہنم کی گہرائی میں ڈال دے گی ، جہنم پر ایک پل ہو گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا ، اس پر آنکڑے اور کنڈے ہوں گے جس کے بارے میں اللہ کو منظور ہو گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، کچھ لوگ اس پل پر سے یوں گزریں گے جیسے پلک جھپکنا ہوتا ہے ، جیسے بجلی ہوتی ہے ، جیسے ہوا ہوتی ہے ، جیسے تربیت یافتہ گھوڑا ہوتا ہے ، جیسے سوار ہوتا ہے ( یعنی وہ لوگ مختلف قسم کی رفتار سے گزریں گے ) فرشتے یہ کہہ رہے ہوں گے : اے پروردگار ! سلامتی عطا کرنا ، اے پروردگار ! سلامتی عطا کرنا ، تو متوج سلامت رہے گا ، مخدوش سلامت رہے گا ، مکور چہرے کے بل جہنم میں جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18440
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (110/6)»