کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: میزان ، پل صراط اور ( جہنم پر ) ’’ ورود “ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18440
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا : أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا ، وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ ، فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا ، وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَنْغَبِطُ عَلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ : وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ ، وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ : وُكِّلْتُ بِمَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ، وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ، وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ، فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَطْرَحُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ ، وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَرَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ ، تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ ، وَكَالْبَرْقِ ، وَكَالرِّيحِ ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ ، وَالرِّكَابِ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ : رَبِّ ، سَلِّمْ ! سَلِّمْ ! فَتَمُوجُ : فَسَالِمٌ ، وَمَخْدُوشٌ سَلِمَ ، وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " . قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن کوئی حبیب ، اپنے حبیب کو یاد رکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! جہاں تک تین مقامات کا تعلق ہے تو ( وہاں ) نہیں ، میزان کے پاس جب تک وہ بوجھل یا ہلکا نہیں ہو جاتا تو وہاں نہیں ، جب نامہ اعمال دیے جائیں گے ، جو یا دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، تو وہاں نہیں ، اور جب جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی ، وہ گردن یہ کہے گی : مجھے تین افراد کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، مجھے تین افراد کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، مجھے اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت کرتا تھا ، مجھے اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا ، اور مجھے ہر ظالم سرکش کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، پھر وہ انہیں لپیٹ میں لے گی اور انہیں جہنم کی گہرائی میں ڈال دے گی ، جہنم پر ایک پل ہو گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا ، اس پر آنکڑے اور کنڈے ہوں گے جس کے بارے میں اللہ کو منظور ہو گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، کچھ لوگ اس پل پر سے یوں گزریں گے جیسے پلک جھپکنا ہوتا ہے ، جیسے بجلی ہوتی ہے ، جیسے ہوا ہوتی ہے ، جیسے تربیت یافتہ گھوڑا ہوتا ہے ، جیسے سوار ہوتا ہے ( یعنی وہ لوگ مختلف قسم کی رفتار سے گزریں گے ) فرشتے یہ کہہ رہے ہوں گے : اے پروردگار ! سلامتی عطا کرنا ، اے پروردگار ! سلامتی عطا کرنا ، تو متوج سلامت رہے گا ، مخدوش سلامت رہے گا ، مکور چہرے کے بل جہنم میں جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18440
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (110/6)»
حدیث نمبر: 18441
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَتَا الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ ، فَيُنَجِّي اللَّهُ تَعَالَى بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ " . قَالَ : " ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّبِيِّينَ ، وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا فَيَشْفَعُونَ ، وَيُخْرِجُونَ فَيَشْفَعُونَ ، وَيُخْرِجُونَ . زَادَ عَفَّانُ مَرَّةً : - وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن لوگوں کو پل صراط پر لایا جائے گا اور اس پل کے دونوں پہلو ان لوگوں کو نیچے گرائیں گے جس طرح پتنگے آگ میں گرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں چاہے گا اپنی رحمت کے وسیلے سے اسے نجات عطا کر دے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر فرشتوں کو ، انبیاء کو ، شہداء کو شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی وہ شفاعت کریں گے اور ( لوگوں کو جہنم سے ( نکالیں گے ، وہ شفاعت کریں گے اور ( لوگوں کو جہنم سے ) نکالیں گے ۔ “ ایک مرتبہ عفان نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے : ” وہ شفاعت کریں گے ( اور ایسے لوگوں کو جہنم سے ) نکالیں گے ، جن کے دل میں اتنا ایمان ہو ، جو ذرے کے وزن جتنا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (929) أخرجه البزار فى المسند (3467) اخرجه احمد فى المسند ( )»
حدیث نمبر: 18442
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " شِعَارُ أُمَّتِي إِذَا رَكِبُوا عَلَى الصِّرَاطِ : يَا لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَعُبْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب انہیں پل صراط پر لایا جائے گا تو میری امت کا شعار ( یعنی مخصوص نعرہ ، یا مخصوص کلمات ) ہو گا : اے وہ ذات ! کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی عبدوس بن محمد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18442
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18443
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَدْعُو النَّاسَ [ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] بِأَسْمَائِهِمْ سَتْرًا مِنْهُ عَلَى عِبَادِهِ ، وَأَمَّا عِنْدَ الصِّرَاطِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي كُلَّ مُؤْمِنٍ نُورًا [ وَكُلَّ مَؤْمِنَةٍ نُورًا ] ، وَكُلَّ مُنَافِقٍ نُورًا ، فَإِذَا اسْتَوَوْا عَلَى الصِّرَاطِ سَلَبَ اللَّهُ نُورَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ : انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ ، وَقَالَ الْمُؤْمِنُونَ : رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا ، فَلَا يَذْكُرُ عِنْدَ ذَلِكَ أَحَدٌ أَحَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ : أَبُو حُذَيْفَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے ناموں کے حوالے سے بلائے گا اور یہ اس کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے پردے کے ساتھ ہو گا لیکن جہاں تک پل صراط کے پاس کا معاملہ ہے تو وہاں اللہ تعالیٰ ہر مومن مرد کو نور عطا کرے گا اور ہر مومن عورت کو نور عطا کرے گا اور ہر منافق کو نور عطا کرے گا ، لیکن جب وہ لوگ پل صراط پر آ جائیں گے تو اللہ تعالی منافق مردوں اور منافق عورتوں کا نور سلب کر لے گا ، تو منافقین یہ کہیں گے : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور میں سے کچھ حاصل کر لیں ۔ “ تو مومنین یہ کہیں گے : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کر دے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو اس وقت کوئی کسی کا ذکر نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن بشر ابوحذیفہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18443
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11242)»
حدیث نمبر: 18444
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : يُوضَعُ الصِّرَاطُ عَلَى سَوَاءِ جَهَنَّمَ مِثْلَ حَدِّ السَّيْفِ الرَّهِفِ ، مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ بِهَا ، فَمُمْسَكٌ يَهْوِي فِيهَا ، وَمَصْرُوعٌ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالْبَرْقِ فَلَا يَنْشَبُ ذَلِكَ أَنْ يَنْجُوَ ، ثُمَّ كَالرِّيحِ فَلَا يَنْشَبُ ذَلِكَ أَنْ يَنْجُوَ ، ثُمَّ كَجَرْيِ الْفَرَسِ ، ثُمَّ كَسَعْيِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ كَرَمَلِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ كَمَشْيِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ يَكُونُ آخِرَهُمْ إِنْسَانًا رَجُلٌ قَدْ تُوجِبُهُ النَّارُ ، وَلَقِيَ فِيهَا شَرًّا حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ وَسَلْ . فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَتَهْزَأُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ ؟ ! فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ وَسَلْ . حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ مِنْهُ الْأَمَانِيُّ قَالَ : لَكَ مَا سَأَلْتَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائے گا جو تلوار کی دھار سے زیادہ باریک اور تیز ہو گا ، پرے کرنے والا اور پھسلانے والا ہو گا ، اس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو اچک لیں گے ، تو پکڑنے والا اس میں گرے گا اور پچھاڑا گیا ہو گا ، ان میں سے کوئی برق کی مانند گزرے گا ، پھر جیسے ہوا ہوتی ہے ، پھر گھوڑے کے دوڑنے کی مانند ، پھر آدمی کے دوڑنے کی مانند ، پھر آدمی کے تیزی سے چلنے کی مانند ، پھر آدمی کے چلنے کی مانند ، پھر ان کے آخر میں ایسا انسان ہو گا جس پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی ، وہ جہنم میں بری صورتحال کا سامنا کر چکا ہو گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل کے ذریعے اسے جنت میں داخل کر دے گا تو اُسے کہا: جائے گا : تم آرزو کرو اور مانگو ! وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! کیا تو میرا مذاق اڑا رہا ہے ؟ جبکہ تو رب العزت ہے ، تو اسے کہا: جائے گا : تم آرزو کرو اور مانگو ! ( وہ شخص مانگنا شروع کرے گا ) یہاں تک کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اُس سے کہا: جائے گا : تم نے جو مانگا وہ تمہیں ملتا ہے اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید ملتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8992)»
حدیث نمبر: 18445
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ . قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ أَحَادِيثُ غَيْرُ هَذَا مَرْفُوعَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید دس گنا ملتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ احادیث ” صحیح “ میں مذکور ہیں ، جو اس کے علاوہ ہیں اور مرفوع ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عاصم کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 18446
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَقُولُ النَّارُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : جُزْ يَا مُؤْمِنُ ، فَقَدْ أَطْفَأَ نُورُكَ لَهَبِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلیٰ بن منبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن آگ ( یا جہنم ) مومن سے یہ کہے گی : اے مومن ! تم گزر جاؤ ! کیونکہ تمہارا نور میرے شعلوں کو بجھا دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن منصور بن عمار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18446
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (258/22)»
حدیث نمبر: 18447
وَعَنْ أَبِي سُمَيْنَةَ قَالَ : اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي الْوُرُودِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . فَقُلْتُ : إِنَّا اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ؟ فَأَهْوَى بِإِصْبُعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، وَقَالَ : صَمْتًا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْوُرُودُ الدُّخُولُ ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ - أَوْ قَالَ : لِجَهَنَّمَ - ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ، وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ " . قُلْتُ لِجَابِرٍ : حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ مَوْقُوفٌ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسمینہ بیان کرتے ہیں : ہمارے درمیان ” ورود “ کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، ہم میں سے کچھ کا یہ کہنا تھا کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کا یہ کہنا تھا ( کافر اور مومن ) سب اس میں داخل ہوں گے ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا راوی کہتے ہیں : میری ملاقات سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے کہا: ہمارے درمیان ” ورود “ کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے ، انہوں نے فرمایا : سب لوگ اس پر وارد ہوں گے ، میں نے ان سے کہا: ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے ، ہم میں سے کچھ کا یہ کہنا ہے : مومن اس میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کا یہ کہنا ہے : ( کافر اور مومن ) سب اس میں داخل ہوں گے ، تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کی طرف بڑھائیں اور فرمایا : یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو : ” ورود “ سے مراد داخل ہونا ہے ، ہر نیک اور گناہ گار شخص اس میں داخل ہو گا ، لیکن وہ اہل ایمان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی ، جس طرح وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے ( ٹھنڈک و سلامتی والی ) ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان ( اہل ایمان ) کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم کی گونج ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے جو ” موقوف “ ہے اور اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18447
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 18448
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا حَرُّ جَهَنَّمَ عَلَى أُمَّتِي كَحَرِّ الْحَمَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے لیے جہنم کی تپش یوں ہو گی ، جیسے حمام کی تپش ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18448
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 18449
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى جَهَنَّمَ يَوْمٌ كَأَنَّهَا زَرْعٌ هَاجَ وَاحْمَرَّ ، تَخْفِقُ أَبْوَابُهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم پر ایک ایسا دن آئے گا جب وہ کھیتی کی طرح ہو گی ، وہ حرکت کرے گی اور سرخ ہو گی اور اس کے دروازے بج رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7969)»