حدیث نمبر: 18441
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَتَا الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ ، فَيُنَجِّي اللَّهُ تَعَالَى بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ " . قَالَ : " ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّبِيِّينَ ، وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا فَيَشْفَعُونَ ، وَيُخْرِجُونَ فَيَشْفَعُونَ ، وَيُخْرِجُونَ . زَادَ عَفَّانُ مَرَّةً : - وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن لوگوں کو پل صراط پر لایا جائے گا اور اس پل کے دونوں پہلو ان لوگوں کو نیچے گرائیں گے جس طرح پتنگے آگ میں گرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں چاہے گا اپنی رحمت کے وسیلے سے اسے نجات عطا کر دے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر فرشتوں کو ، انبیاء کو ، شہداء کو شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی وہ شفاعت کریں گے اور ( لوگوں کو جہنم سے ( نکالیں گے ، وہ شفاعت کریں گے اور ( لوگوں کو جہنم سے ) نکالیں گے ۔ “ ایک مرتبہ عفان نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے : ” وہ شفاعت کریں گے ( اور ایسے لوگوں کو جہنم سے ) نکالیں گے ، جن کے دل میں اتنا ایمان ہو ، جو ذرے کے وزن جتنا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (929) أخرجه البزار فى المسند (3467) اخرجه احمد فى المسند ( )»