مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ . باب: اذان دینے کی فضیلت
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ شَيْخًا هَرِمًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ [صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَسَلَّمَ ] ، عَلِّمْنِي عَمَلًا أَتَقْرُبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ، كَبِرْتُ عَنْ ذَلِكَ وَضَعُفْتُ . قَالَ : " فَكُنْ مُؤَذِّنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قُرَيْبٌ وَالِدُ الْأَصْمَعِيِّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجئے جس کے ذریعے میں اللہ تعالی یعنی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کر لوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے ، اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا میری عمر زیادہ ہے ، اور میں کمزور ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم مؤذن بن جاؤ !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قریب ہے ، جو اصمعی کا والد ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔