مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ : لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ . باب: کوئی ایسا نہیں ہے ، جس کا عمل اسے نجات دلوائے
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدًا لَا ذَنْبَ لَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ : بِأَيِّ الْأَمْرَيْنِ أَحَبَّ إِلَيْكَ أَنْ أَجْزِيَكَ ، بِعَمَلِكَ أَمْ بِنِعْمَتِي عِنْدَكَ ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَعْصِكَ ، قَالَ : خُذُوا عَبْدِي بِنِعْمَةٍ مِنْ نِعَمِي ، فَمَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ إِلَّا اسْتَغْرَقَتْهَا تِلْكَ النِّعْمَةُ ، فَيَقُولُ : رَبِّ ، بِنِعْمَتِكَ وَرَحْمَتِكَ ، فَيَقُولُ : بِنِعْمَتِي وَرَحْمَتِي " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحِسَابِ . ¤سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو اُٹھائے گا ، جس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دونوں میں سے کون سی صورت تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ میں تمہارے عمل کے حساب سے تمہیں جزا دیدوں ؟ یا جو میری نعمت تمہیں ملی تھی ( اس کے حوالے سے حساب لوں ؟ ) وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ جانتا ہے کہ میں نے کبھی تیری نافرمانی نہیں کی ، پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے عوض میں پکڑ لو ! تو اس کی ہر ایک نیکی کو وہ نعمت حاصل کر لے گی ، وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! اپنی نعمت اور اپنی رحمت ( کے وسیلے سے مجھے معاف کر دے ! ) تو پروردگار فرمائے گا : میری نعمت اور میری رحمت ( کی بدولت تمہیں نجات ملتی ہے ) ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے حساب سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔