کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کوئی ایسا نہیں ہے ، جس کا عمل اسے نجات دلوائے
حدیث نمبر: 18427
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ " . قَالُوا : [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] وَلَا أَنْتَ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ [ بِرَحْمَتِهِ ] " . وَقَالَ بِيَدِهِ فَوْقَ رَأْسِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تو روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی ( اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر داخل ) نہیں ( ہوں گے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے سر کے اوپر اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18427
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (52/3)»
حدیث نمبر: 18428
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ . فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَاغْدُوا وَرُوحُوا ، وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے بھی نہیں ، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ، تم صبح اور شام اور رات کے کچھ حصے میں ( نماز ادا کرو ) اور میانہ روی اختیار کرو ، میانہ روی اختیار کرو ، تم پہنچ جاؤ گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18428
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (262/2)»
حدیث نمبر: 18429
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا عَمَلُهُ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ ، وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي أَنَا وَعِيسَى بِمَا جَنَى هَذَانِ لَأَوْبَقَنَا " . وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ مِنْ قَوْلِهِ : " وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي بِمَا جَنَى هَؤُلَاءِ لَأَوْبَقَنِي " . وَشَيْخُ الْبَزَّارِ أَبُو بَكْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَكَأَنَّهُ وَرَّاقُ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا ، فَإِنَّهُ رَوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ ذَكْوَانَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْقَيْصَرَانِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی خاص رحمت اور فضل کے ذریعہ ڈھانپ لیا ہے ، اگر وہ میرا اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا مواخذہ کرے ، اس چیز کے حوالے سے جس کا ارتکاب ان دو ( انگلیوں ) نے کیا ہے ، تو وہ ہمیں ہلاکت کا شکار کر دے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ میرا مواخذہ کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اگر وہ اس کے حوالے سے میرا مواخذہ کرے ، جس کا ارتکاب انہوں نے کیا ہے تو وہ مجھے ہلاکت کا شکار کر دے ۔ “ امام بزار کے استاد ابوبکر سے میں واقف نہیں ہوں ، شاید یہ ابن ابودنیا کا وراق ہے ، کیونکہ اس نے محمد بن عبدالملک بن زنجویہ سے روایات نقل کی ہیں ، اسی طرح امام طبرانی کے استاد ابراہیم بن معاویہ بن ذکوان بن ابوسفیان قیصرانی کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن زنجویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3448) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2315)»
حدیث نمبر: 18430
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ " . فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : وَلَا أَنْتَ ؟ ! فَذَكَرَهُ . وَفِي أَسَانِيدِهِمْ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے بھی نہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے مجھے ڈھانپ لیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کروائے گا ، حاضرین میں سے کسی نے دریافت کیا : آپ کو بھی نہیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ان روایات کی اسانید میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3447)»
حدیث نمبر: 18431
وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلٍ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شریک بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت اور فضل کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7218)»
حدیث نمبر: 18432
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ " . قُلْنَا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِرَحْمَةٍ مِنْهُ " . وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے مجھے ڈھانپ لیا ہے ( یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اپنے سر مبارک پر رکھ لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح اسدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18432
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (493)»
حدیث نمبر: 18433
وَعَنْ أَسَدِ بْنِ كُرْزٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَسَدُ بْنَ كُرْزٍ ، لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلٍ ، وَلَكِنْ بِرَحْمَةِ اللَّهِ " . قَالَ : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَلَاقَنِي اللَّهُ - أَوْ يَتَغَمَّدَنِي - اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسد بن کرز رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اسد بن کرز ! تم عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ( جنت میں داخل ہو گے ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18433
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1001)»
حدیث نمبر: 18434
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُخْرَجُ لِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةُ دَوَاوِينَ : دِيوَانٌ فِيهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ ، وَدِيوَانٌ فِيهِ ذُنُوبُهُ ، وَدِيوَانٌ فِيهِ النِّعَمُ مِنَ اللَّهِ عَلَيْهِ . فَيَقُولُ اللَّهُ لِأَصْغَرِ نِعْمَةٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فِي دِيوَانِ النِّعَمِ : خُذِي ثَمَنَكِ مِنْ عَمَلِهِ الصَّالِحِ ، فَتَسْتَوْعِبُ عَمَلَهُ الصَّالِحَ ، ثُمَّ تَنَحَّى وَتَقُولُ : وَعَزَّتِكَ مَا اسْتَوْفَيْتُ ، وَتَبْقَى الذُّنُوبُ وَالنِّعَمُ ، وَقَدْ ذَهَبَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ كُلُّهُ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَ عَبْدًا قَالَ : يَا عَبْدُ ، قَدْ ضَاعَفْتُ حَسَنَاتِكَ ، وَتَجَاوَزْتُ عَنْ سَيِّئَاتِكَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَوَهَبْتُ لَكَ نِعَمِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ابن آدم کے لیے تین دیوان لائے جائیں گے ، ایک دیوان میں نیک عمل ہو گا ، ایک دیوان میں اس کے گناہ ہوں گے ، ایک دیوان میں اس پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنی سب سے چھوٹی نعمت سے یہ فرمائے گا : ( راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) نعمتوں والے دیوان میں ( موجود سب سے چھوٹی نعمتوں سے یہ فرمائے گا : ) تم اس کے نیک اعمال میں سے اپنی قیمت وصول کر لو ! تو وہ نعمت اس شخص کے سارے نیک عمل کو حاصل کر لے گی ، پھر وہ پیچھے ہٹے گی اور یہ کہے گی : تیری عزت کی قسم ! میں نے پوری وصولی نہیں کی ، پھر اس شخص کے گناہ اور نعمتیں باقی رہ جائیں گے ، کیونکہ اس کا نیک عمل تو سارا رخصت ہو چکا ہو گا ، جب اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے کا ارادہ کرے گا تو فرمائے گا : اے میرے بندے ! اللہ تعالیٰ نے تیری نیکیوں کو کئی گنا کر دیا ہے اور اس نے تیرے گناہوں سے درگزر کیا ہے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اور میں نے اپنی نعمتیں تمہیں ہبہ کر دی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3444)»
حدیث نمبر: 18435
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُضِّلْتُمْ عَلَيْنَا بِالْأَلْوَانِ وَالنُّبُوَّةِ ، أَفَرَأَيْتَ إِنْ آمَنْتُ بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ ، وَعَمِلْتُ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتَ بِهِ ، إِنِّي لَكَائِنٌ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَانَ لَهُ بِهَا عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ ، وَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِائَةَ حَسَنَةٍ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَهْلِكُ بَعْدَ هَذَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِعَمَلٍ ، لَوْ وُضِعَ عَلَى جَبَلٍ لَأَثْقَلَهُ ، فَتَقُومُ النِّعْمَةُ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ فَتَكَادُ تَسْتَنْفِذُ ذَلِكَ كُلَّهُ لَوْلَا مَا يَتَفَضَّلُ اللَّهُ مِنْ رَحْمَتِهِ " . ثُمَّ نَزَلَتْ : " هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا " إِلَى قَوْلِهِ : " وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا " . فَقَالَ الْحَبَشِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ تَرَى عَيْنِي فِي الْجَنَّةِ مِثْلَ مَا تَرَى عَيْنُكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . فَبَكَى الْحَبَشِيُّ حَتَّى فَاضَتْ نَفْسُهُ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَأَنَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُدَلِّيهِ فِي حُفْرَتِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حبشہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کو رنگت اور نبوت کے حوالے سے ہم پر فضیلت دی گئی ہے ، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اسی طرح ایمان لے آتا ہوں ، جس طرح آپ لوگ ایمان لائے ہیں اور اس طرح عمل کرتا ہوں ، جس طرح آپ عمل کرتے ہیں ، تو کیا میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لا الہ لا اللہ پڑھے گا تو اس کی وجہ سے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عہد ہو گا اور جو شخص سبحان اللہ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں نوٹ کرے گا ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے بعد ہم کیسے ہلاکت کا شکار ہو سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن ایک شخص ایسا عمل لے کر آئے گا کہ اگر اسے پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ اس کو بھی بوجھل محسوس ہو ، پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کھڑی ہو گی اور تقریباً اس سارے عمل کو ختم کر دے گی ، اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا فضل اس پر نہ کیا ، پھر یہ آیت نازل ہوئی : ” کیا انسان پر ایسا زمانہ نہیں آیا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور جب تم ادھر دیکھو گے تو تم نعمتیں اور بڑی بادشاہی دیکھو گے ۔ “ اس حبشی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا جنت میں میری آنکھیں بھی اس طرح دیکھیں گی ؟ جس طرح آپ کی آنکھیں دیکھیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ حبشی شخص رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے خود سے قبر میں اتارا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18435
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18436
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدًا لَا ذَنْبَ لَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ : بِأَيِّ الْأَمْرَيْنِ أَحَبَّ إِلَيْكَ أَنْ أَجْزِيَكَ ، بِعَمَلِكَ أَمْ بِنِعْمَتِي عِنْدَكَ ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَعْصِكَ ، قَالَ : خُذُوا عَبْدِي بِنِعْمَةٍ مِنْ نِعَمِي ، فَمَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ إِلَّا اسْتَغْرَقَتْهَا تِلْكَ النِّعْمَةُ ، فَيَقُولُ : رَبِّ ، بِنِعْمَتِكَ وَرَحْمَتِكَ ، فَيَقُولُ : بِنِعْمَتِي وَرَحْمَتِي " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحِسَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو اُٹھائے گا ، جس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دونوں میں سے کون سی صورت تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ میں تمہارے عمل کے حساب سے تمہیں جزا دیدوں ؟ یا جو میری نعمت تمہیں ملی تھی ( اس کے حوالے سے حساب لوں ؟ ) وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ جانتا ہے کہ میں نے کبھی تیری نافرمانی نہیں کی ، پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے عوض میں پکڑ لو ! تو اس کی ہر ایک نیکی کو وہ نعمت حاصل کر لے گی ، وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! اپنی نعمت اور اپنی رحمت ( کے وسیلے سے مجھے معاف کر دے ! ) تو پروردگار فرمائے گا : میری نعمت اور میری رحمت ( کی بدولت تمہیں نجات ملتی ہے ) ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے حساب سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف