حدیث نمبر: 18435
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُضِّلْتُمْ عَلَيْنَا بِالْأَلْوَانِ وَالنُّبُوَّةِ ، أَفَرَأَيْتَ إِنْ آمَنْتُ بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ ، وَعَمِلْتُ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتَ بِهِ ، إِنِّي لَكَائِنٌ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَانَ لَهُ بِهَا عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ ، وَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِائَةَ حَسَنَةٍ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَهْلِكُ بَعْدَ هَذَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِعَمَلٍ ، لَوْ وُضِعَ عَلَى جَبَلٍ لَأَثْقَلَهُ ، فَتَقُومُ النِّعْمَةُ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ فَتَكَادُ تَسْتَنْفِذُ ذَلِكَ كُلَّهُ لَوْلَا مَا يَتَفَضَّلُ اللَّهُ مِنْ رَحْمَتِهِ " . ثُمَّ نَزَلَتْ : " هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا " إِلَى قَوْلِهِ : " وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا " . فَقَالَ الْحَبَشِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ تَرَى عَيْنِي فِي الْجَنَّةِ مِثْلَ مَا تَرَى عَيْنُكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . فَبَكَى الْحَبَشِيُّ حَتَّى فَاضَتْ نَفْسُهُ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَأَنَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُدَلِّيهِ فِي حُفْرَتِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حبشہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کو رنگت اور نبوت کے حوالے سے ہم پر فضیلت دی گئی ہے ، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اسی طرح ایمان لے آتا ہوں ، جس طرح آپ لوگ ایمان لائے ہیں اور اس طرح عمل کرتا ہوں ، جس طرح آپ عمل کرتے ہیں ، تو کیا میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لا الہ لا اللہ پڑھے گا تو اس کی وجہ سے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عہد ہو گا اور جو شخص سبحان اللہ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں نوٹ کرے گا ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے بعد ہم کیسے ہلاکت کا شکار ہو سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن ایک شخص ایسا عمل لے کر آئے گا کہ اگر اسے پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ اس کو بھی بوجھل محسوس ہو ، پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کھڑی ہو گی اور تقریباً اس سارے عمل کو ختم کر دے گی ، اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا فضل اس پر نہ کیا ، پھر یہ آیت نازل ہوئی : ” کیا انسان پر ایسا زمانہ نہیں آیا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور جب تم ادھر دیکھو گے تو تم نعمتیں اور بڑی بادشاہی دیکھو گے ۔ “ اس حبشی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا جنت میں میری آنکھیں بھی اس طرح دیکھیں گی ؟ جس طرح آپ کی آنکھیں دیکھیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ حبشی شخص رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے خود سے قبر میں اتارا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18435
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف