مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ : لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ . باب: کوئی ایسا نہیں ہے ، جس کا عمل اسے نجات دلوائے
حدیث نمبر: 18432
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ " . قُلْنَا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِرَحْمَةٍ مِنْهُ " . وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے مجھے ڈھانپ لیا ہے ( یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اپنے سر مبارک پر رکھ لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح اسدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔