مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ : لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ . باب: کوئی ایسا نہیں ہے ، جس کا عمل اسے نجات دلوائے
حدیث نمبر: 18433
وَعَنْ أَسَدِ بْنِ كُرْزٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَسَدُ بْنَ كُرْزٍ ، لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلٍ ، وَلَكِنْ بِرَحْمَةِ اللَّهِ " . قَالَ : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَلَاقَنِي اللَّهُ - أَوْ يَتَغَمَّدَنِي - اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا اسد بن کرز رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اسد بن کرز ! تم عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ( جنت میں داخل ہو گے ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔