مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ : لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ . باب: کوئی ایسا نہیں ہے ، جس کا عمل اسے نجات دلوائے
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ " . فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : وَلَا أَنْتَ ؟ ! فَذَكَرَهُ . وَفِي أَسَانِيدِهِمْ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے بھی نہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے مجھے ڈھانپ لیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کروائے گا ، حاضرین میں سے کسی نے دریافت کیا : آپ کو بھی نہیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ان روایات کی اسانید میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔