مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ : لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ . باب: کوئی ایسا نہیں ہے ، جس کا عمل اسے نجات دلوائے
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا عَمَلُهُ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ ، وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي أَنَا وَعِيسَى بِمَا جَنَى هَذَانِ لَأَوْبَقَنَا " . وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ مِنْ قَوْلِهِ : " وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي بِمَا جَنَى هَؤُلَاءِ لَأَوْبَقَنِي " . وَشَيْخُ الْبَزَّارِ أَبُو بَكْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَكَأَنَّهُ وَرَّاقُ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا ، فَإِنَّهُ رَوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ ذَكْوَانَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْقَيْصَرَانِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ان صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی خاص رحمت اور فضل کے ذریعہ ڈھانپ لیا ہے ، اگر وہ میرا اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا مواخذہ کرے ، اس چیز کے حوالے سے جس کا ارتکاب ان دو ( انگلیوں ) نے کیا ہے ، تو وہ ہمیں ہلاکت کا شکار کر دے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ میرا مواخذہ کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اگر وہ اس کے حوالے سے میرا مواخذہ کرے ، جس کا ارتکاب انہوں نے کیا ہے تو وہ مجھے ہلاکت کا شکار کر دے ۔ “ امام بزار کے استاد ابوبکر سے میں واقف نہیں ہوں ، شاید یہ ابن ابودنیا کا وراق ہے ، کیونکہ اس نے محمد بن عبدالملک بن زنجویہ سے روایات نقل کی ہیں ، اسی طرح امام طبرانی کے استاد ابراہیم بن معاویہ بن ذکوان بن ابوسفیان قیصرانی کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن زنجویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔