مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ : لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ . باب: کوئی ایسا نہیں ہے ، جس کا عمل اسے نجات دلوائے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ . فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَاغْدُوا وَرُوحُوا ، وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے بھی نہیں ، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ، تم صبح اور شام اور رات کے کچھ حصے میں ( نماز ادا کرو ) اور میانہ روی اختیار کرو ، میانہ روی اختیار کرو ، تم پہنچ جاؤ گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔