مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ . باب: قصاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَهْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، وَمَرَّ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُسْتُمَ فِي مَوْكِبِهِ ، فَقَالَ لِابْنِ أَبِي مَرْيَمَ : إِنِّي لَأَشْتَهِي مُجَالَسَتَكَ وَحَدِيثَكَ ، فَلَمَّا مَضَى قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْبِطُوا فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ ، إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ ، إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤جہم بن اوس بیان کرتے ہیں : میں نے عبداللہ بن ابومریم کو سنا ، عبداللہ بن رستم اپنی سواری پر ان کے پاس سے گزرا اس نے ابن ابومریم سے کہا: میری یہ خواہش تھی کہ میں آپ کے پاس بیٹھتا اور آپ کے ساتھ بات چیت کرتا ، جب وہ چلا گیا تو ابن ابومریم نے کہا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ کسی گناہ گار شخص کی نعمت کے حوالے سے رشک نہ کرو کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ اس نے مرنے کے بعد کس صورتحال کا سامنا کرنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے لیے ایک ایسا قاتل ہو گا ( جو اسے قتل کرتا رہے گا ) اور اسے موت نہیں آئے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔