مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ . باب: قصاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا كَانَتْ لِأَخِيهِ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي نَفْسٍ أَوْ مَالٍ ، فَأَتَاهُ فَاسْتَحَلَّهُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، إِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ ؟ قَالَ : " أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِ فَطُرِحَ عَلَى سَيِّئَاتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ عِيسَى الْيَزَنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جس نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ جان یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہو ، پھر وہ اپنے بھائی کے پاس جائے اور قیامت کے دن سے پہلے اسے معاف کروا لے کیونکہ قیامت کے دن تو کوئی دینار یا درہم نہیں ہو گا وہاں تو نیکیاں ہی ہوں گی ۔ “ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو دوسرے شخص کے گناہ لے کر اس کے گناہوں میں شامل کر دیے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن عیسیٰ یزنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔