حدیث نمبر: 18421
وَعَنْ زَاذَانَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَقَدْ سَبَقَ إِلَى مَجْلِسِهِ أَصْحَابُ الْخَزِّ وَالدِّيبَاجِ ، فَقُلْتُ : أَدْنَيْتَ النَّاسَ وَأَقْصَيْتَنِي ، فَقَالَ لِي : ادْنُ ، فَأَدْنَانِي حَتَّى أَقْعَدَنِي عَلَى بِسَاطِهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ يَكُونُ لِلْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا دَيْنٌ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَتَعَلَّقَانِ بِهِ فَيَقُولُ : أَنَا وَلَدُكُمَا ، فَيَوَدَّانِ أَوْ يَتَمَنَّيَانِ لَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَخْلَدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین

زاذان بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، مجھ سے پہلے ریشم اور دیباج والے لوگ ان کے پاس آ چکے تھے ، میں نے کہا: آپ نے لوگوں کو قریب کر لیا ہے اور مجھے دور کر دیا ہے ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : تم قریب آ جاؤ ! انہوں نے مجھے قریب کیا یہاں تک کہ انہوں نے مجھے اپنے بچھونے پر بٹھایا ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” والدین کا اپنی اولاد کے ذمہ قرض ہو گا ( یعنی جو قرض والدین نے اپنی اولاد سے وصول کرنا ہو گا ) جب قیامت کا دن ہو گا تو والدین اپنے بچے کے ساتھ متعلق ہو جائیں گے ( یعنی اس سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کریں گے ) وہ کہے گا : میں آپ کا بچہ ہوں ، لیکن ماں باپ کی یہ خواہش ہو گی کہ کاش اُنہوں نے اُس سے زیادہ وصولی کرنی ہوتی ۔ “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے )
یہ روایت امام طبرانی نے عمرو بن مخلد کے حوالے سے ذکریا بن یحیی انصاری سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18421
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10526)»