مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ . باب: قصاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ غَازِيًا ، فَلَمَّا مَرَرْتُ بِحِمْصَ خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ لِأَشْتَرِيَ مَا لَا غِنًى لِلْمُسَافِرِ عَنْهُ ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ قُلْتُ : لَوْ أَنِّي دَخَلْتُ فَرَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى ثَابِتِ بْنِ مَعْبَدٍ ، وَمَكْحُولٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا : إِنَّا نُرِيدُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ . فَقَامُوا وَقُمْتُ مَعَهُمْ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ رَقَّ وَكَبِرَ ، وَإِذَا عَقْلُهُ وَمَنْطِقُهُ أَفْضَلُ مِمَّا نَرَى مِنْ مَنْظَرِهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا حَدَّثَنَا أَنْ قَالَ : إِنَّ مَجْلِسَكُمْ هَذَا مِنْ بَلَاغِ اللَّهِ إِيَّاكُمْ ، وَحُجَّتِهِ عَلَيْكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَإِنَّ أَصْحَابَهُ قَدْ بَلَّغُوا مَا سَمِعُوا ، فَبَلِّغُوا مَا تَسْمَعُونَ : ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : رَجُلٌ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ . ¤ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ فِي جَهَنَّمَ جِسْرًا لَهُ سَبْعُ قَنَاطِرَ ، عَلَى أَوْسَطِهِ الْعُصَاةُ ، فَيُجَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الْقَنْطَرَةِ الْوُسْطَى قِيلَ لَهُ : مَاذَا عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ ؟ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : " وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا " . قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ، عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا ، فَيُقَالُ لَهُ : اقْضِ دَيْنَكَ . فَيَقُولُ : مَا لِي شَيْءٌ ، وَمَا أَدْرِي مَا أَقْضِي مِنْهَا ! فَيُقَالُ : خُذُوا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَمَا يَزَالُ يُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ ، حَتَّى إِذَا فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قِيلَ : قَدْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ . فَيُقَالُ : خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِ مَنْ يَطْلُبُهُ ، فَرَكِّبُوا عَلَيْهِ ، فَلَقَدْ بَلَغَنِي : أَنَّ رِجَالًا يَجِيئُونَ بِأَمْثَالِ الْجِبَالِ مِنَ الْحَسَنَاتِ ، فَمَا يَزَالُ يُؤْخَذُ لِمَنْ يَطْلُبُهُمْ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كُلْثُومُ بْنُ زِيَادٍ ، وَبَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةٌ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سلیمان بن حبیب محاربی بیان کرتے ہیں : میں جنگ میں حصہ لینے کے لیے روانہ ہوا ، جب میرا گزر ” حمص “ سے ہوا تو میں بازار کی طرف گیا تاکہ وہاں سے وہ چیزیں لے لوں جو مسافر کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، جب میں نے مسجد کے دروازے کی طرف دیکھا تو میں نے سوچا کہ اگر میں مسجد کے اندر جا کر دو رکعت ادا کر لوں ( تو یہ مناسب ہو گا ) جب میں مسجد کے اندر آیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں ثابت بن معبد ، ابن زکریا اور مکحول ، اہل دمشق سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ موجود تھے ، جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ، وہ لوگ کچھ دیر بات چیت کرتے رہے ، پھر انہوں نے کہا: ہم سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، وہ لوگ اُٹھے تو ان کے ساتھ میں بھی اُٹھ گیا ، ہم لوگ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ ایک بوڑھے کمزور عمر رسیدہ فرد تھے ، لیکن ان کی ظاہری حالت کی بہ نسبت ان کی عقل اور ان کی گفتگو زیادہ فضیلت رکھتی تھی ، انہوں نے ہمیں جو بات ارشاد فرمائی ، اس میں سب سے پہلی بات یہ تھی ، تمہاری یہ نشست اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے تبلیغ ہے اور تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیز کے ہمراہ معبوث کیا گیا تھا ، آپ نے اس کی تبلیغ کر دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو کچھ سنا تھا ، اُس کی انہوں نے تبلیغ کر دی ، تو تم لوگ جو سنو گے ، تم بھی اس کی تبلیغ کر دینا ! ” تین لوگ ہیں ، جن کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے ، ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات ہے ، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے ، یا پھر اسے اجر اور غنیمت کے ہمراہ واپس لے آئے ، اور ایک وہ شخص جو اپنے گھر میں سلامتی کے ہمراہ داخل ہوتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : جہنم پر پل ہو گا جس میں سات طبقے ہوں گے ، ان میں سے درمیان والے پر نافرمان لوگ ہوں گے ، کسی بندے کو لایا جائے گا ، یہاں تک کہ جب وہ درمیانی درجے پر پہنچے گا تو اس سے دریافت کیا جائے گا : تمہارے ذمہ کتنا قرض ہے ؟ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے ۔ “ وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میرے ذمہ اتنا ، اتنا قرض ہے ، تو اُسے کہا: جائے گا : تم اپنا قرض ادا کرو ! وہ کہے گا : میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کس چیز کے ذریعے ادائیگی کروں ؟ تو کہا: جائے گا : اس کی نیکیاں لے لو ! اس شخص سے نیکیاں لی جائیں گی ، یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ، جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو کہا: جائے گا : اس کی نیکیاں ختم ہو گئی ہیں ، تو یہ کہا: جائے گا : اس سے مطالبہ کرنے والے کے گناہ لو اور اس کے ذمہ ڈال دو ! ( راوی کہتے ہیں : ) مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : کچھ لوگ پہاڑوں جتنی نیکیاں لے کر آئیں گے اور ان سے ( بدلہ ) طلب کرنے والے لوگوں کے لئے اُن کی نیکیاں لی جاتی رہیں گی ، یہاں تک کہ اس شخص کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کلثوم بن زیاد اور ایک راوی بکر بن سہل دمیاطی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔