مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ . باب: قصاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَجِيءُ الظَّالِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِذَا كَانَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ بَيْنَ الظُّلْمَةِ وَالْوُعْرَةِ لَقِيَهُ الْمَظْلُومُ فَعَرَفَهُ وَعَرَفَ مَا ظَلَمَهُ بِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ الَّذِينَ ظُلِمُوا يَقُصُّونَ مِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا حَتَّى يَنْزِعُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ الْحَسَنَاتِ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ حَسَنَاتٌ رُدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ حَتَّى يُورَدَ الدَّرْكَ الْأَسْفَلَ مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ظالم آئے گا ، یہاں تک کہ وہ جہنم کے پل کے پاس پہنچے گا ، جہاں تاریکی اور گھبراہٹ ہو گی ، تو مظلوم اس سے ملے گا ، وہ اسے پہچان لے گا ، اس نے جو ظلم اس پر کیا تھا اُسے بھی پہچان لے گا ، پھر ظلم کرنے والوں سے ، مظلوموں کو مسلسل بدلہ دلایا جاتا رہے گا ، یہاں تک کے ان ظالموں کے پاس جتنی نیکیاں ہوں گی وہ ان سے لے لی جائیں گی اور جب ان کی نیکیاں باقی نہیں رہیں گی ، تو مظلوموں کی برائیاں اُن پر ڈال دی جائیں گی ، یہاں تک کہ انہیں جہنم کے سب سے نیچے والے طبقے میں پہنچا دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔