مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ . باب: قصاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَلْمَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَجِيءُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْحَسَنَاتِ بِمَا يَرْجُو أَنَّهُ يَنْجُو بِهَا ، فَلَا يَزَالُ رَجُلٌ يَجِيءُ قَدْ ظَلَمَهُ بِمَظْلَمَةٍ فَيُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَيُعْطَى الْمَظْلُومُ حَتَّى لَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ ، ثُمَّ يَجِيءُ مَنْ يَطْلُبُهُ وَلَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْءٌ ، فَيُؤْخَذُ مِنْ سَيِّئَاتِ الْمَظْلُومِ فَتُوضَعُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ایک شخص اتنی نیکیاں لے کر آئے گا کہ وہ یہ گمان کرے گا کہ ان کی وجہ سے وہ نجات پا جائے گا ، لیکن پھر کوئی شخص آئے گا جس پر اس نے ظلم کیا ہو گا ، تو اس شخص کی نیکیاں لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی ، یہاں تک کہ اس شخص کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ، پھر کوئی اور شخص آئے گا جو اس سے مطالبہ کرے گا لیکن اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہی ہو گی تو مظلوم کی برائیاں لے کر اُس کی برائیوں میں شامل کر دی جائیں گی ۔ “
یہ روایت طبرانی اور امام بزار نے عبداللہ بن اسحاق عطار کے حوالے سے خالد بن حمزہ سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔