حدیث نمبر: 18401
قَالَ : النَّاسَ - عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا " . قَالَ : قُلْنَا : وَمَا بُهْمًا ؟ قَالَ : " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ : أَنَا الدَّيَّانُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ ، حَتَّى اللَّطْمَةُ " . قَالَ : قُلْنَا : كَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا ؟ ! قَالَ : " الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ " . وَهُوَ عِنْدَ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین

( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں کو برہنہ جسم حالت میں ، ختنے کے بغیر ” بہم “ حالت میں زندہ کرے گا ، ہم نے دریافت کیا : ” بہم “ حالت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی ، پھر ایک منادی ( یعنی پروردگار ) بلند آواز میں انہیں مخاطب کر کے کہے گا ، جس آواز کو دور کا فرد بھی اسی طرح سن سکے گا جس طرح نزدیک کا فرد سن سکے گا ( وہ فرمائے گا ) میں ” دیان “ ہوں ( یعنی فیصلہ کرنے والا یا بدلہ دینے والا ہوں ) میں بادشاہ ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے ، جبکہ اس نے اہل جنت میں سے کسی ایک سے کوئی حق لینا ہو ، جب تک میں اسے بدلہ نہیں دلوا دیتا ، اہل جنت میں سے کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے جبکہ اہل جہنم میں سے کسی کا حق اس کے پاس ہو ، جب تک میں اسے بدلہ نہیں دلوا لیتا ، یہاں تک کہ طمانچہ مارنے ( کا بدلہ بھی میں دلواؤں گا ) ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : جب ہم برہنہ جسم ہوں گے ، ختنے کے بغیر ہوں گے اور ہمارے پاس کوئی چیز بھی نہیں ہو گی ( تو بدلہ کیسے دیا جائے گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نیکیوں اور برائیوں ( کے ذریعے بدلہ دیا جائے گا ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18401
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن