حدیث نمبر: 18400
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لِي أَمْسِكُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ؟ أَلَا إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - دَاعِيَّ ، وَإِنَّهُ سَائِلِي : هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي ؟ وَإِنِّي قَائِلٌ : رَبِّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُهُمْ ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ ، إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ " . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا دِينُنَا ؟ قَالَ : " هَذَا دِينُكُمْ وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں پہلو سے پکڑ کر جہنم میں جانے سے روکتا ہوں ، خبردار ! میرے پروردگار نے مجھے بلانا ہے اور مجھ سے دریافت کرنا ہے : کیا تم نے میرے بندوں تک تبلیغ کر دی تھی ؟ اور میں یہ کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میں نے ان کو تبلیغ کر دی تھی ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے فرمایا : ) تم میں سے موجود افراد ، غیر موجود لوگوں تک تبلیغ کر دیں ، پھر تمہیں ( قیامت کے دن ) بلایا جائے گا اور تمہارے منہ بند کر دیے جائیں گے اور تم میں سے کسی ایک کی طرف سے جو چیز پہلے بیان کرے گی وہ اس کا زانو اور اس کی ہتھیلی ہو گی ۔ “
راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمارا دین ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا دین ہے ، تم جہاں بھی اچھائی کرو گے وہ تمہارے لیے کفایت کرے گی ( یا یہ دین تمہارے لیے کفایت کرے گا ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1679) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (407/19) اخرجه احمد فى المسند (446/4)»