حدیث نمبر: 18402
وَعَنْ عَائِشَةَ ، وَبَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لِي مَمْلُوكِينَ يَكْذِبُونَنِي ، وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي ، وَأَضْرِبُهُمْ وَأَشْتُمُهُمْ ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِحَسَبِ مَا خَانُوكَ ، وَعَصَوْكَ ، وَكَذَبُوكَ ، وَعِقَابِكَ إِيَّاهُمْ ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا ، لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمُ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قِبَلَكَ " . فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَهْتِفُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَ ؟ مَا تَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ : " وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا لِي مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي عَبِيدَهُ - أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ . قُلْتُ : حَدِيثُ عَائِشَةَ وَحْدَهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِ الصَّحَابِيِّ الَّذِي لَمَّ يُسَمَّ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ أَيْضًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ایک صحابی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ غلام ہیں ، جو میرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں ، وہ میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں ، وہ میری نافرمانی کرتے ہیں ، میں اُنہیں مارتا ہوں اور انہیں برا کہتا ہوں ، یا رسول اللہ ! تو اُن کے ساتھ میرا یہ رویہ کیسا شمار ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : وہ لوگ تمہارے ساتھ جو خیانت کرتے ہیں ، تمہاری جو نافرمانی کرتے ہیں ، تمہاری جو تکذیب کرتے ہیں ( ان کا ) یہ عمل اور تمہارا انہیں سزا دینا ( ان دونوں کا جائزہ لیا جائے گا ) اور اگر تمہاری اُنہیں دی ہوئی سزا اُن کے جرم سے کم ہوئی تو یہ چیز تمہارے لئے اضافی ہو گی اور اگر تمہاری اُنہیں دی ہوئی سزا اُن کے جرم کے مطابق ہو گی تو پھر معاملہ برابری کی بنیاد پر ہو گا ، نہ تمہارے حق میں کوئی چیز ہو گی نہ تمہارے ذمہ کوئی چیز لازم ہو گی ، اور اگر تمہارا انہیں سزا دینا ، ان کے جرم سے زیادہ ہو گا تو تمہاری طرف سے جو چیز اضافی ہو گی اس کے حوالے سے تم سے بدلہ دلوایا جائے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر رونے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ کیا تم نے اللہ کی کتاب میں یہ نہیں پڑھا ہے : ” اور ہم قیامت کے دن عدل کا ترازو رکھیں گے تو کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ، اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے وزن جتنی بھی ہو گی ، تو ہم اس کو لے آئیں گے اور حساب لینے کے لیے ہم کافی ہیں ۔ “ اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی صورت نہیں ملتی جو میرے حق میں اُن سے علیحدگی اختیار کرنے سے زیادہ بہتر ہو ، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں صحابی کا نام بیان نہیں کیا گیا اس سند میں ایک اور ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (280/6)»