حدیث نمبر: 18397
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ آخِرُ الزَّمَانِ صَارَتْ أُمَّتِي ثَلَاثَ فِرَقٍ : فِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ خَالِصًا ، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ رِيَاءً ، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ لِيَسْتَأْكِلُوا بِهِ النَّاسَ ، فَإِذَا جَمَعَهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لِلَّذِي كَانَ يَسْتَأْكِلُ النَّاسَ : بِعِزَّتِي وَجَلَالِي مَا أَرَدْتَ بِعِبَادَتِي ؟ فَيَقُولُ : وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ أَسْتَأْكِلُ بِهِ النَّاسَ . قَالَ : لَمْ يَنْفَعْكَ مَا جَمَعْتَ شَيْئًا تَلْجَأُ إِلَيْهِ ، انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى النَّارِ . ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي كَانَ يَعْبُدُ رِيَاءً : بِعِزَّتِي وَجَلَالِي ، مَا أَرَدْتَ بِعِبَادَتِي ؟ قَالَ : بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ رِيَاءَ النَّاسِ ، قَالَ : لَمْ يَصْعَدْ إِلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ ، انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى النَّارِ . ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي كَانَ يَعْبُدُهُ خَالِصًا : بِعِزَّتِي وَجَلَالِي مَا أَرَدْتَ بِعِبَادَتِي ؟ قَالَ : بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، أَنْتَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي ، أَرَدْتُ بِهِ ذِكْرَكَ وَوَجْهَكَ ، قَالَ : صَدَقَ عَبْدِي ، انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَرَضِيَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آخری زمانہ آئے گا تو میری امت تین حصوں میں تقسیم ہو جائے گی ، ایک گروہ خالص طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ ریاکاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس لیے کرے گا تاکہ لوگوں سے مالی فائدہ حاصل کرے ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ انہیں جمع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے یہ فرمائے گا جو اس عبادت کے ذریعے لوگوں سے مالی فائدہ حاصل کرتا تھا ( اللہ تعالیٰ اس سے دریافت کرے گا : ) میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! تم نے کس مقصد کے تحت میری عبادت کی ؟ وہ بندہ جواب دے گا : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ! میں اس کے ذریعے لوگوں سے مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا ، تو پروردگار فرمائے گا : تم نے جو کچھ بھی اکٹھا کیا ، وہ تمہیں یہ فائدہ نہیں دے گا کہ اب تم اس کی پناہ لے سکو ( پھر فرشتوں کو حکم ہو گا ) اس کو جہنم کی طرف لے جاؤ ! ۔ پھر اللہ تعالیٰ ریاکاری کے طور پر عبادت کرنے والے سے فرمائے گا : میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! تم نے میری عبادت کے ذریعے کیا مراد لیا ؟ ( یعنی میری عبادت کے حوالے سے تمہارا مقصد کیا تھا ؟ ) تو وہ شخص عرض کرے گا : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ، لوگوں کے لئے دکھاوا ( میرا مقصد تھا ) پروردگار فرمائے گا : اس میں سے کوئی بھی عمل مجھ تک نہیں پہنچا ( پھر فرشتوں کو حکم ہو گا ) اس کو جہنم کی طرف لے جاؤ ! ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا جو خالص طور پر اس کی عبادت کرتا تھا ، میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! تم میری عبادت کے ذریعے کیا مراد لیتے تھے ؟ وہ عرض کرے گا : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ! تو اس بارے میں مجھ سے بہتر جانتا ہے ، میں نے اس کے ذریعے تجھے یاد کرنا اور تیری رضامندی مراد لیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندے نے سچ کہا: ہے ( پھر فرشتوں کو حکم ہو گا : ) اسے جنت کی طرف لے جاؤ ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابوحاتم رازی اس سے راضی تھے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف