حدیث نمبر: 18395
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصُحُفٍ مُخَتَّمَةٍ ، فَتُنْصَبُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : أَلْقُوا هَذِهِ وَاقْبَلُوا هَذِهِ . فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : وَعِزَّتِكَ ، مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا . فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّ هَذَا كَانَ لِغَيْرِ وَجْهِي ، وَإِنِّي لَا أَقْبَلُ الْيَوْمَ إِلَّا مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهِي " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن مہر لگے ہوئے صحیفوں کو لایا جائے گا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھ دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو ایک طرف کر دو اور اس کو قبول کر لو ، فرشتے عرض کریں گے : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ( جس صحیفے کو تو نے ایک طرف کرنے کا حکم دیا ہے ) اس میں ہمیں صرف بھلائی دکھائی دے رہی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ ( یعنی اس صحیفے میں درج عمل ) میری ذات کے علاوہ کسی اور کے لئے تھا اور آج میں صرف اس کو قبول کروں گا ، جس کے ذریعے میری ذات ( کی رضامندی ) مراد لی گئی تھی ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3435)»