حدیث نمبر: 18394
وَعَنْ أَنَسٍ - يَرْفَعُهُ - قَالَ : " مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِالْمِيزَانِ ، فَيُؤْتَى بِابْنِ آدَمَ فَيُوقَفُ بَيْنَ كِفَّتَيِ الْمِيزَانِ ، فَإِنْ ثَقُلَ مِيزَانُهُ نَادَى مَلَكٌ بِصَوْتٍ يُسْمِعُ الْخَلَائِقَ : سَعِدَ فُلَانٌ سَعَادَةً لَا يَشْقَى بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَإِنْ خَفَّ مِيزَانُهُ نَادَى مَلَكٌ بِصَوْتٍ يُسْمِعُ الْخَلَائِقَ : شَقِيَ فُلَانٌ شَقَاوَةً لَا يَسْعَدُ بَعْدَهَا أَبَدًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” ایک فرشتے کو میزان کے پاس مقرر کیا گیا ہے ، ابن آدم کو لا کر میزان کے دونوں پلڑوں کے درمیان کھڑا کر دیا جائے گا ، اگر اس کا میزان بھاری ہو گا تو فرشتہ ایسی آواز میں پکار کر کہے گا جو ساری مخلوق سن سکے گی ، فلاں شخص ایسا سعادتمند ہوا کہ وہ اس کے بعد کبھی بدنصیب نہیں ہو گا ، اور اگر اس کا میزان ہلکا ہوا تو فرشتہ اتنی بلند آواز میں پکار کر کہے گا ، جس کو ساری مخلوق سن سکے گی : فلاں شخص ایسا بدنصیب ہوا کہ اب وہ اس کے بعد کبھی بھی سعادت مند نہیں ہو سکے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3445)»