مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْعَارُ وَالتَّخْزِيَةُ تَبْلُغُ مِنِ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا يَتَمَنَّى الْعَبْدُ أَنْ يُؤْمَرَ بِهِ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي شِدَّةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَنَّ هَذَا فِي حَقِّ الْكَافِرِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کے دوران ابن آدم کو اتنی عار اور شرمندگی محسوس ہو گی کہ بندہ یہ آرزو کرے گا : کہ اُسے جہنم میں لے جانے کا حکم دے دیا جائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قیامت کے دن کی شدت کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں یہ بات گزر چکی ہے کہ ایسا کافر کے حق میں ہو گا ۔